ابو احمد مہراج گنج

میں نے اپنی زندگی کا پہلا مشاعرہ آج سے تقریباً چوبیس سال قبل سہارنپور کے میلے میں سنا بلکہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دیکھا تھا۔اور میں تب سے لیکر اب تک ایک جملہ سنتا رہا ہوں کہ "مشاعروں کی ایک تہذیب ہے،جس کی حفاظت ہمارا اخلاقی فریضہ ہے”
میں سوچتا ہوں کہ وہ اخلاقی فریضہ جس کو مشاعروں کی تہذیب سے جوڑا جاتا ہے ،وہ تہذیب اور وہ روایت کیا چیزہے ؟؟
پچھلی صفوں میں بیٹھنے والے چند شاعروں سے میں نے پوچھا کہ مشاعروں کی وہ کون سی تہذیب اور روایت ہے جس کی حفاظت ہمارا اخلاقی فریضہ ہے ۔تو کچھ مسکرا دیےاور کچھ نے انکار میں سر ہلا دیا۔
میری طرح ایک بے مروت شاعر نے تو یہ کہتے ہوۓ مجھے حیران کردیا کہ شاعراور مشاعرے کون سے قرآن وحدیث ہیں جس کی ہربات پر سر تسلیم خم کیا جاۓ،یہ تو خواب وخیال کو لفظی پیرہن دینے والے کچھ پیشہ ور افراد ہیں جن کو ہم شاعر اور انکی عوامی مجلسوں کو ہم مشاعرہ کہتے ہیں ۔مجھے یہ جواب اچھا تو نہیں لگتا لیکن کیا کرسکتا ہوں اس میں کچھ سچائی بھی ہے انکار کرنا آسان بھی نہیں تھا ۔
بات یہ ہے کہ ہم جیسے کچھ لوگ تو ہوں گے ہی جو ان فالتوں اور ںے مطلب قسم کی باتوں پر اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہوں گے۔لیکن پھر بھی سوال تو سوال ہی ہے ۔چلیے فرض کرلیتے ہیں کہ مشاعروں کی ایک تہذیب اور روایت ہے۔لیکن اس تہذیب اور روایت کا تعلق سامعین سے ہے یا شعراء سے یہ بھی سمجھنے کی بات ہے ۔ اگر وہ تہذیب اور روایت شعراء سے متعلق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ شعرائے کرام مشاعروں کی تہذیب کی حفاظت خود کیوں نہیں کرتے ۔کیوں وہ بد تہذیب ،بے سلیقہ اور بداخلاق آدمی کو شعراء کی صف میں جگہ دیتے ہیں ۔اور اگر مشاعروں کی روایت کی بات کریں تو میں نے تیئس چوبیس سالوں میں یہی دیکھا ہے کہ شعرا سامنے بیٹھے پندرہ سے بیس سال کی نسل کو ان کے پختہ ہونے سے پہلے ہی عشق اور محبت کی کشمکش ۔محبوب معشوق کے حسن مجسم کی تصویر ،لب ورخسار کے حسین تصورات اور تنہائی کے رنگین لمحات اس طرح سے ازبر کرادیتے ہیں کہ یہ نسل مکمل طور سے جوان ہونے سے پہلے ہی اپنے آپ کو ہجر و وصال اورلب ورخسار،گیسوۓ دراز کا اسیر بنالیتے ہیں ۔اور کیسے نہ بن جائیں جب پندرہ سال کی عمر کے بچے کے سامنے کوئی شاعر یہ پڑھے کہ

میں تیرے حسن کو نغمات کے سانچے میں ڈھالوں گا
تجھے تجھ سے چرالوں گا ،تجھے تجھ سے چرالوں گا
یہ تیرے جسم کی خوشبو ،یہ تیری زلف کے ساۓ
میری باہوں کے حلقے میں کبھی ائے کاش تو آئے
ترے سانسوں کی گرمی کو میں سانسوں میں بسا لوں گا
تجھے تجھ سے چرا لوں گا تجھے تجھ سے چرا لوں گا

یہ غزل جب چودھ پندرہ سال کے بچے اور بچیاں سنیں گی اور باربار سنیں گی اور سانسوں کی گرمی کو سانسوں میں بسانے کےفزیکل ایجوکیشن کو کبھی نہ کبھی چیک کرنے کی جسارت کر ہی لیں گے کیونکہ ایک دوسرا شاعر اسی مشاعرے کے اسٹیج سے انھیں کم سن بچوں کے سامنے جب یہ پڑھے گا

ہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہرا
اور اس پہ یہ کالی گھٹاؤں کا پہرا
گلابوں سے نازک مہکتا بدن ہے
یہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہے
بکھیرو جو زلفیں تو شرمائیں بادل
فرشتے بھی دیکھیں تو ہوجائیں پاگل
وہ پاکیزہ مورت ہو تم
بہت خوب صورت ہوتم

اب آپ سمجھ ہی سکتے ہیں کہ نوخیز اور نوعمر بچے جب جسمانی حسن اور اس کے خد و خال کا اس گہرائی اور گیرائی سے معائنہ کریں گے تو انجام کار یہ ہوگا کہ وہ کسی کے زلف گرہ گیر کا اسیر بن کر اپنی تعلیم اور جوانی دونوں کو داؤ پر لگا نے کی پاگلوں جیسی ضد کریں گے ۔
اگر یہ بات یہیں تک ہوتی تو بھی کچھ کم نہ تھا لیکن اس سے آگے ایک شاعرہ کہانی سناتے ہوئے یوں مشورہ دیتی ہیں کہ

سانولی سی لڑکی، ایک باؤلی سی لڑکی
کچی ہے عمر جس کی
کچھ دن سے جانے کس کی
چاہت میں کهو گئی ہے
دیوانی ہو گئی ہے
کیا جانے خواب کس کا
آنکهوں میں ہے سنبهالے
کچھ سوچتی ہے شب بهر
خود پر لحاف ڈالے
گهر والے سوچتے ہیں
جلدی سے سو گئی ہے
اک سانولی سی لڑکی، اک باؤلی سی

اس کو سن کر جس لڑکی میں یہ مرض نہیں ہوگا وہ خود کو مریض بنا کر سہانے سپنے اور رنگین خواب دیکھ کر خود کو تباہی کے دہلیز پر لے جائےگی ۔
یہی شاعرہ ایک مشاعرے میں یوں مشورہ دیتی ہیں کہ

لڑکیوں مجھ کو تجربہ ہے بہت
مشورہ ہے کہ پیار مت کرنا

پہلے پیار کی ترغیب دیتے ہیں پھر پیار نہ کرنے کا مشورہ، یہ سب کیا ہے؟ یہی مشاعروں کی وہ تہذیب ہے جس کی حفاظت کرنا سامعین کا اخلاقی فرض ہے ۔
بات اگر صرف مشاعروں میں پیار ومحبت کے آداب واخلاق واعمال پر مشتمل شاعری ہوتی تو بھی کچھ غنیمت ہوتا لیکن ایک شاعرہ تو بیڈ روم کی سرگرمیوں کو بھی مشاعروں کے اسٹیج سے بیس سال سے گا گا کر سنا رہی ہیں اور ہم جیسے ذہنی و فکری عیاش اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔وہ پڑھتی ہیں کہ

ہماری نیندیں بھی اڑ چکی ہیں، صنم بھی کروٹ بدل رہے ہیں
ادھر بھی جاگا ہے پیار دل میں، اِدھر بھی ارماں مچل رہے ہیں
ملا ہے جس دن سے پیار ان کا، ہر ایک شے ہے نثار مجھ پر
گلاب قدموں میں بچھ رہے ہیں، چراغ راہوں میں جل رہے ہیں

آپ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس میں بیڈ روم کی کون سی سرگرمیاں ہیں تو شعر کو پھر سے پڑھئے اور اس کے ذومعنی ہونے پر غور کرئیے تو معلوم ہوگا کہ نوجوان بچوں اور بچیوں کے ذہن میں کون سا مفہوم جلد از جلد پیدا ہوگا۔ اور کون سے خیالات نظروں کے سامنے ہوں گے ۔
یہ سب ہمارے مشاعروں کے سب سے معیاری اور معتبر مہذب تعلیم یافتہ شعراء کے کلام سے استفادہ کیا گیا ہے وگرنہ مشاعرہ اور شعراء کے نام پر جو گندی، ہیجانی، جسمانی کیفیات کو شعر کے قالب میں ڈھال کر نونہالوں کےدل و دماغ میں انڈیلا جارہا ہے وہ مشاعرے کی تہذیب تو قطعاً نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے