میرؔبیدری، بیدر، کرناٹک
دِل سبھوں کاوہی چرائے گا
ایک تنہاجو دِل لبھائے گا
وہ اُٹھادے گاصبح بستر سے
رات ہوگی تو پھر سلائے گا
بس یہی شرط ہوگی ہم نے سنا
چاہنے والوں کو رُلائے گا
اک قیامت جسے بھی وہ کہہ دے
وہی ہنگامہ جان کھائے گا
کس سے کہتامیں میرے ہمدم میر ؔ
دِل جلوں کو نہ کوئی پائے گا
