اسماعیل قمر بستوی

جب ساتھ مرا رب ہے تو طوفان کچھ نہیں

حائل کوئی بھی راہ کی چٹان کچھ نہیں

پروردگار تو ہی رہے گا یہاں سدا

تیرے سوا کسی کی ہے پہچان کچھ نہیں

تیرا ہی ذکر شام و سحر کائنات میں

تیرے سوا جہاں میں ہے عنوان کچھ نہیں

پروردگار تیری ہے رحمت کا آسرا

بخشش کامیرے پاس ہے سامان کچھ نہیں

تیرا کرم نہ ہو تو سمندر نہ راہ دے

کشتی کسی کی پار ہو آسان کچھ نہیں

ہرایک سانس رب کی امانت ہے اے قمر

اس کے بغیر جسم میں یہ جان کچھ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے