عبد الرحمن راشد عمری
ذکر کیوں نہ ہو رب کا ہر طرف زمانے میں
نطق اس کی قدرت کا ایک ایک دانے میں
صرف ذات ہی تیری کامل و مکمل ہے
تو ہی اک حقیقت ہے دہر کے فسانے میں
ایک قطرہ دریا ہے تو اگر عطا کر دے
ہے شہادتیں اس کی اے خدا زمانے میں
عظمتوں کے لائق ہےجو جھکے ترے در پر
باد نرم پائے گا غم کے شعلہ خانے میں
کاسہ طلب ہی کچھ اپنا تنگ ہے ورنہ
کیا نہیں میسر ہے تیرے کارخانے میں
رب سے میں نے اے راشد بس یہی دعا مانگی
زندگی گذر جائے تیرے آستانے میں
