عبدالقیوم ہمدم علی نگری

 

ان بہتےجھرنوں ندیوں کے دامن میں روانی کسنے دی

ان ننھے منے بچوں کو آنگن میں جوانی کسنے دی

یہ چرخ و فلک کے آنچل میں تاروں کی سجاوٹ کیا کہنا

 یہ اونچے پہاڑوں استھل میں غاروں کی بناوٹ کیا کہنا

ان ننھے منے پودوں کو گلشن میں جوانی کسنے دی

ان بہتے جھرنوں ندیوں کے دامن میں روانی کسنے دی

بنجر سے اگائی ہریالی پھولوں میں رچائی ہے لالی

نہ یہ خالی نہ وہ خالی ہر چیز اگائی ہے عالی

جیون کی اس خوشحالی کو مسکن میں بحالی کسنے دی

ان بہتے جھرنوں ندیوں کے دامن میں روانی کسنے دی

یہ چلتی ہوا موسم کی فضا کیوں اتراتی اٹھلاتی ہیں

سورج کی شعاع مہتابی ادا کیوں شرماتی گرماتی ہیں

ان شمس وقمر کےگرہن پر دونوں میں زوالی کسنے دی

ان بہتے جھرنوں ندیوں کے دامن میں روانی کسنے دی

بے باک ذرا یہ کہہ دونا ہر چیز ہمیں مولا نے دی

دنیاں میں کمانے کھانے کی تدبیر ہمیں مولا نے دی

ہمدم کو طاقت قوت یہ اس تن میں امانی کسنے دی

ان بہتے جھرنوں ندیوں کے دامن میں روانی کسنے دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے