سی ایم او اور ڈپٹی سی ایم او ایک دوسرے پر کر رہے ہیں الزام تراشی۔

سدھارتھ نگر (عبدالمبین منصوری): تقریباًگزشتہ ایک ہفتے سے چیف میڈیکل آفیسر دفتر برابر سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ معاملہ اس وقت گرم ہوا جب ایک پرائیویٹ اسپتال کے آپریٹر کا سی ایم او پر رشوت لینے کا الزام لگانے کا ویڈیو مختلف مقامات پر وائرل ہونے لگا۔ ایسے میں سی ایم او آفس سے لے کر پورے ضلع میں ہلچل سی مچ گئی۔ جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی سی ایم او اور نوڈل آفیسر نے بے قاعدگیوں کی وجہ سے اسپتال کو سیل کردیا۔

ہسپتال کو دوبارہ کھولنے کے نام پر چیف میڈیکل آفیسر کی جانب سے رشوت طلب کر نے کی ویڈیو وائرل ہونے لگی۔جسےاسپتال کے منیجر نے اسے دینے سے عاجزی کا اظہار کیا۔ ایسے میں کسی نہ کسی طرح ان کی گفتگو کی ویڈیو وائرل ہونے لگی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔

درجہ ذیل لنک پر کلک کرکے وائرل ویڈیو کو دیکھا جاسکتا ہے۔

https://youtu.be/cK7BUzU-dp0

جہاں چیف میڈیکل آفیسر کے دفتر کو لے کر عام لوگوں میں بدعنوانی کے چرچے عام تھے وہیں چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر وی کے اگروال نے یہ کہہ کر اپنا دامن چھڑانے کی بات کر رہے ہیں کہ انہیں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر بی این چترویدی اور نوڈل آفیسر ڈاکٹر ایم ایم ترپاٹھی نے اسپتال کو سیل کر دیا ہے اور خود انہیں رقم کے لین دین کی بات کر کے پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب دونوں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تمام کارروائی سی ایم او کے علم میں ہوئی ہے اور اسپتال کو سیل کرنا یا نہ کرنا سی ایم او کی ہدایات کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ ایسے میں پیسے کا جو بھی لین دین ہوا وہ سی ایم او کے حکم کے مطابق ہی لیا گیا۔

معلومات کے مطابق دفتر سے کئی ضروری دستاویزات بھی غائب بتائے جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ معاملہ ڈائریکٹر ہیلتھ تک پہنچ چکا ہے لیکن ابھی تک وہاں سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔کچھ دن پہلے ضلع کے مادھو پرساد ترپاٹھی میڈیکل کالج میں وارڈ بوائے کے پیسے لینے کا ویڈیو بھی وائرل ہوا تھا لیکن اس کی بھی حقیقت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ ایسے میں میڈیکل کالج چیف میڈیکل آفیسر کے دفتر کی کارگذاری سے پورے ضلع میں تہلکہ مچا ہوا ہے۔

اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ چیف میڈیکل آفیسر ڈپٹی سی ایم او اور نوڈل آفیسر میں سے کون خود کو بے قصور ثابت کرپاتے ہیں۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کے بعد ہی سارا معاملہ واضح ہو سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے