سمریاواں، سنت کبیر نگر (رپورٹ محمد رضوان ندوی): تپہ اجیار میں واقع طالبات کے معروف اقامتی ادارہ جامعہ امامہ للبنات سمریاواں شاخ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن کی صدارت اورجامعہ کے شیخ الحدیث مولانا عبد الرحمن ندوی کی نظامت میں ایک خاص پروگرام بعنوان تکمیل حفظ قران منعقد ہوا۔

جس میں حافظ مولانا انیس الرحمن ندوی استاذ مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں اور دیگر اساتذہ و معلمات ،گارجین وطالبات کے سامنے جامعہ کی طالبہ سعدیہ صلاح الدین سیہونڈا نے محض 90 دن میں حفظ قرآن مکمل کرکے تاریخ رقم کردی، اس موقع پر عذراء بتول بنت عبید احمد تلجہ، آفرین امتیاز شفیع آباد نے بھی بہت کم مدت میں حفظ قرآن مکمل کرکے والدین، اساتذہ اور متعلقین سے دعائیں حاصل کیں،

مہمان خصوصی مولانا غفران احمد ندوی صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں نے طالبات کو خطاب کرتے ہوئےکہا کہ قرآن ہماری زندگیوں کا سب سے عظیم سرمایہ ہے ،یہ تقوی ،طہارت ،رشد وھدایت ،رضاء الہی ،کامیاب زندگی اور کامل بندگی کا سب سے بہترین ذریعہ ہے ،یہ نجات کا وسیلہ اور سرفرازی کی سند ہے جس کو ترقی ملی اسی سے ملی اس لئے قران کی تلاوت کو عام کرنا چاہئے اس کے احکامات پر زندگی گزار کر اپنے آپ کو اجر عظیم کا مستحق بنانا چاھئے ،مولانا ندوی نے مزید کہا کہ اس روئے زمین پر سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو قرآن کی تعلیم سیکھتے اور سکھاتے ہیں ،کم مدت میں حفظ قرآن مکمل کرنا یہ قرآن کا معجزہ اور خصوصیت ہے ،عہد نبوی سے لے کر اب تک بہت بڑی تعداد نے قرآن کو اتنی کم مدت میں یاد کیا ہے جس کو ذھن ودماغ قبول کرنے سے عاجز وقاصر ہے قرآن اللہ رب العزت کا عطا کردہ کلام ہے اس لئے ہماری قرات بھی اچھی آواز ،صحت مخارج اور اصول تجوید کی مکمل رعایت کے ساتھ ہونی چاھیے ، اللہ کے یہاں قرآن اور حامل قرآن کا ایک اہم مقام ہے،

صدر جلسہ مولانا منیر احمد ندوی نے جامعہ کے تمام معلمین ومعلمات اور ان طالبات کو مبارک باد پیش کیا جنہوں نے حفظ قرآن مکمل کیا،

قرآن کو یاد رکھنے اس کی تلاوت کو گھر گھر عام کرنے اور اس کے پیغامات کو سمجھنے اور دوسروں تک پہونچانے کی تلقین کی ،صدر جلسہ نے مزید کہا کہ اگر مائیں اور بہنیں پختہ ارادہ کرلیں تو معاشرے کی اصلاح کافی حد تک ممکن ہے، ہر دورمیں خواتین اسلام کا ایک اہم کردار رہا ہے ، آنے والی نسلیں دین وایمان کی فکر کریں اور اس ادارہ سے ایک پیغام لے کر جائیں کہ ہم پوری زندگی اچھا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کریں گے ،اعلی اخلاق کا نمونہ پیش کریں گے ،معاشرہ میں جنم لینے والی بے حیائی اور برائی سے خود بچیں گی اور دوسروں کو بھی بچنے کی تلقین کریں گے ،

مولانا مفتی عبد الواحد قاسمی کا بھی تعلیم وتربیت پر اہم خطاب ہوا، صدر جلسہ کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا،

اس موقع پر مولانا نصیر احمد ندوی ، مولانا انیس الرحمن ندوی ،مولانا محمود الرحمن قاسمی، صلاح الدین بھائی ، فرحان احمد اور مستورات و طالبات کی ایک بہت بڑی تعداد موجود رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے