غزل

ستمبر 10, 2023

نصیر محمد انصر نیپالی

 

کہاں کھو گئی لذت سحر گاہی

نہ شوق عبادت نہ ذوق خدائی

پہاڑوں کو کرتے تھے ہیبت سے رائی

میری ٹھوکروں میں تھی کشور کشائی

اجالا کہاں سے ملے میرے دل کو؟

نہیں ہے جوانوں میں شعلہ نوائی

کہاں مر گئی آہ! عربوں کی غیرت

سجی بزم عشرت ہوئی بے حیائی

جگر کے لہو سے تو رنگین کر لے

مری جان پھیکی ہے دست حنائی

خوشی راس آتی نہیں ہے کہیں پر

رلاتی ہے دل کو تمہاری جدائی

تو محروم ہے بے نیازی سے انصر

ترے فقر میں ہے ابھی تک گدائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے