نصیر محمد انصر نیپالی
کہاں کھو گئی لذت سحر گاہی
نہ شوق عبادت نہ ذوق خدائی
پہاڑوں کو کرتے تھے ہیبت سے رائی
میری ٹھوکروں میں تھی کشور کشائی
اجالا کہاں سے ملے میرے دل کو؟
نہیں ہے جوانوں میں شعلہ نوائی
کہاں مر گئی آہ! عربوں کی غیرت
سجی بزم عشرت ہوئی بے حیائی
جگر کے لہو سے تو رنگین کر لے
مری جان پھیکی ہے دست حنائی
خوشی راس آتی نہیں ہے کہیں پر
رلاتی ہے دل کو تمہاری جدائی
تو محروم ہے بے نیازی سے انصر
ترے فقر میں ہے ابھی تک گدائی
