سہارنپور 11، اکتوبر(احمد رضا): اسرائیل لمبے عرصے سے یہی چاہتا ہے کہ غازہ پٹی کو نیست و نابود کر فلسطینیوں کا نام و نشان تک مٹا دے حماس کے حملہ کے بعد سے بوکھلائے یہودی وزیر اعظم نے فلسطین کو برباد کر نے کی کھلی ہوئی دھمکی دی ہے رو س نے اس جابرانہ دھمکی پر سخت اعتراض جتا یا ہے اب آپ خد انداز لگائیں کہ اصل دہشت گرد حماس ہے یا اسرائیل ؟   پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑ نیوالے آنکھ کے اندھوں اور دل کے کا لوں کو آج تک بھی اسرائیلی فوج اور حکومت کی دہشت گرد ی نظر نہی آئی ظالم نے لاکھوں نہتے فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا لعنت ایسی حکومت پر! 60 سالوں سے فلسطین پر جاری تشدد کے ذریعہ یہودی(اسرائیل) اقوام لگاتار فلسطینی مسلانوں کی نسل کشی پر آمادہ ہے پوری دنیا اس دہشت اور قتل عام سے خوب واقف ہے آج اسرائیل حماس کو قصور وار ٹھرا رہا ہے جبکہ اس حملہ کا زمہ دار خد اسرائیل ہی ہے!
ملت اسلامیہ کا درد محسوس کرتے ہوئے راشٹریہ سماجک سوشل کارکنان تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ حماس کے بہادر سپا ہیوں نے بہ مجبوری اچانک اسرائیل پر زمینی اور فضائی حملہ  کرکے پورے تل ابیب کو دھول چا ٹنے پر مجبور کر دیا ہے ان حملوں سے اسرائیل پر بوکھلاہٹ طاری ہو گئی ہے ان حملوں سے یقینی طور پر اسرائیل کو زبردست جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے حماس کے جیالوں نے بڑی تعداد میں اسرائیلیوں کو سبق سکھا کر حق کی فتح کا بگل بجا دیا ہے اور سیکڑوں کو یرغمال بنالیا ہے ہلاک ہونے اور یرغمال بننے والوں میں خاصی تعداد اسرائیلی فوجیوں اور ان کے اعلیٰ افسروں کی ہے اسرائیل کےلئے بڑی شرمندگی اور رسوائی کی بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کے میدان میں مہارتوں کے باوجود حملے کا آغاز ہونے سے قبل اسے کانوں کان خبر نہیں ہوسکی یہی تو اللہ تعالیٰ کی مصلحت کی شاندار مثال ہے اس پر مختلف ممالک کے حکمرانوں ، عالمی تنظیموں کے سربراہوں اور بین الاقوامی اداروں کے ذمے داروں کے الگ الگ ردّ عمل سامنے آئے ہیں زیادہ تر اسرائیل کی حمایت کررہے ہیں تو کچھ فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی اور اسرائیل کی مسلسل جارحیت پر اس کا مواخذہ کرنے کی بات کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اسرائیل کی حمایت کی ہے وہ حماس کے حملے کو دہشت گردی سے تعبیر کررہے ہیں اور فلسطینی مزاحمت کاروں کو مجرم بناکر پیش کررہے ہیں اسی کو کہتے ہیں : چوری اور سینہ زوری کتنی عجیب بات ہے کہ جو لوگ ستّر برسوں سے مسلسل ظلم و ستم کا شکار ہیں ، جن کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرکے انہیں بے گھر کردیا گیا ہے ، جو مسلسل جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ، جن پر مسلسل آگ کی بارش کرکے ان کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے ، جو اپنے وطن کی آزادی اور اپنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں انہیں کو دہشت گرد بناکر پیش کیا جائے اور جو ملک گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل ان پر قہر برسا یا جارہا ہے اسے مظلوم اور بے قصور بناکر پیش کیا جا رہا ہے۔آخر میں محمد آفاق نے کہا کہ کیا دہشت گرد وہ ہے جو اپنے وطن سے بے گھر دَر دَر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں دہشت گرد وہ جنھیں جینے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے عالمی برادری کو اپنے پیمانے درست کرنے ہوں گے ظالم کو ظالم کہنا ہوگا اور مظلوم کی حمایت میں کھڑا ہونا ہوگا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے