رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی
لےکے دل کی حسرت ہم،جب مدینے جائیں گے
کوچۂ مدینہ میں نعت گنگنائیں گے
دیکھ گنبدِ خضریٰ ہم بڑى عقیدت سے
پھر درود پڑھ پڑھ کر عاقبت بنائیں گے
سنتے ہیں مدینے میں رحمتوں کی بارش ہے
رحمتوں کی بارش میں دم بدم نہائیں گے
کہہ دو اہلِ باطل سے تو نہ آزما ہم کو
خوف اہلِ باطل سے اہلِ حق نہ کھائیں گے
فکرِ تشنگی کیوں ہو امّتِ محمّد کو
پیارے مصطفٰے کوثر حشر میں پلائیں گے
اے رفیع! تمنّا ہے رات دن یہی دل کی
مصطفٰے کى الفت میں جان وتن لٹائیں گے
