چادر پوشی 31 اکتو بروذکر شہدائے کربلا یکم نومبر کو،2 نومبر کو جلوس پالکی اور قل شریف ہوگا

دیویٰ شریف، بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): پوری دنیا کو قومی بجتی اور محبت کا پیغام دینے والے اور عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت حاجی سید وارث علی شاہ کے والد حکیم سید قربان علی شاہ ( دادا میاں ) کی یاد میں لگنے والے اودھ کے تاریخی دیوی میلے کے آغاز میں چند روز باقی ہیں ۔ اس کے علاوہ دوران میلہ حضرت سید قربان علی شاہ دادا میاں کے آستانہ اور ان کے سجادہ نشین حاجی سید عثمان غنی شاہ کی نشست گاہ پر ہونے والے پروگراموں کا باضابطہ آغاز 31 اکتوبر سے ہوگا۔ اس سلسلہ میں درگاہ حضرت و سید قربان علی شاہ ( دادا میاںؒ) کے سجادہ نشین حاجی سید عثمان غنی شاہ کے صاحبزادے سید ایان غنی نے عرس تقریبات کے سلسلہ میں بتایا کہ 31 اکتو بر کو بعد نماز ظہر سب سے پہلے سجادہ نشین سید عثمان غنی شاہ کی جانب سے دادا میاں” کے آستانہ پر قدیم روایت کے مطابق چادر پیش کی جائے گی۔

یکم نومبر کو بعد نماز ظہر محفل میلاد شریف اور ذکر شہدائے کربلا کا اہتمام سجادہ نشین کی نشست گاہ پر کیا جائے گا۔2 نومبر کو بعد نماز ظہر سجادہ نشین حاجی سید عثمان غنی شاہ حسب دستور سابق وارث پاکؒ کی پالکی میں سوار ہوکر دادا میاںؒ کے آستانہ پر پہنچیں گے اور چادر پیش کریں گے،بعدہ قل شریف کے مراسم ادا کریں گے۔

شب میں گیارہ بجے سجادہ نشین کی نشست گاہ واقع درگاہ حضرت حاجی سید علی احمد شإالمعروف(کلن میاںؒ)پر محفل سماع منعقد ہوگی۔ 3نومبر کو بعد نماز عشإمحفل سماع اور حضرت خادم علی شاہؒ (حضرت سید وارث علی شاہؒ کے حقیقی بہنوٸی)حضرت سید محمد ابراہیم شاہؒ(سید صاحب/نواسہٕ سرکار وارث علی شاہؒ) حضرت علی احمد شاہ عرف کلن میاںؒ، حضرت سید وصی احمد شاہ عرف شبن میاںؒ حضرت حاجی سید شکیل میاںؒ اور حضرت سید غنی احمد شاہ عرف ابو میاںؒ کے قل شریف ہوں گے۔شب میں 3 بجے قرآن خوانی اور 13:4بجے حضرت حاجی سید وارث علی شاہؒ کا قل شریف ہوگا۔5نومبر کو بعد نماز عصر سے قبل غسل آستانہ حضرت سید قربان علی شاہ دادا میاںؒ ہوگا اور سجادہ نشین حاجی سید عثمان غنی شاہ کی نشست گاہ پر مہمانوں کو تبرک تقسیم کیا جاۓ گا۔

یاد رہے کہ حضرت حاجی سید وارث علی شاہؒ نے ایک صدی قبل اپنے والد حضرت سید قربان علی شاہؒ (دادا میاں)کے عرس اور میلہ کارتک کی بنیاد کروا چوتھ کے روز ڈالی تھی۔ میلہ کی تاریخ چاند کے حساب سے نہیں بلکہ ہندی تاریخ کے حساب سے اس لٸے رکھی کیونکہ حاجی وارث پاک کے عقیدت مندوں میں ہندو بھی کثیر تعداد میں شامل ہیں اور بلا تفریق مذہب وملت دربار وارث میں حاضر ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے