مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم رسولی میں دو طالب علم کے افتتاح حفظ قرآن کے موقع پر دعائیہ تقریب کا انعقاد 

رسولی،بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): بارہ بنکی کے قدیمی ادارہ مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم رسولی میں دو طالب علم محمدناوید سیدنپوری اور محمدفواز فتح پوری کے افتتاح حفظ قرآن کے موقع پر ایک دعائیہ نشست منعقد ہوئی۔ جس میں مدرسہ کے مدرس قاری محمدابوذر ثاقبی نے دونوں بچوں کو قرآن کریم کی چند آیات پڑھا کر حفظ قرآن کا آغاز کروایا۔

اس موقع پر مدرسہ کے مہتم حافظ ایاز احمدمدینی نے کہا کہ حافظ قرآن خصوصی امتیاز کا حامل ہوتا ہے۔ حافظ قرآن کا درجہ اور مقام و مرتبہ اسلام کی نظر میں بہت ہی زیادہ بلند ہے۔ قرآن کریم کے سیکھنے اور سکھانے میں مصروف رہنے والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں بہت مقرب اور پسندیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ حافظ قرآن کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا مقام ہے۔ اور یہ مقام اور تقرب حفظ قرآن کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اس موقع پر موجود مولانا اخلاق ندوی نے کہا کہ نسبت بڑی اونچی چیز ہوتی ہے۔ اور نسبت ہی سے کسی چیز کی قیمت متعین ہوتی ہے۔ چوں کہ قرآن مجید کلام ربانی اور خدا کا کلام ہے۔ جو تمام کلاموں میں اعلیٰ اور ارفع ہے۔ اسے جب اپنے سینے میں محفوظ کرلیا جائے تو اس نسبت سے حافظ قرآن کا مقام و رتبہ تو بلند ہو ہی جائے گا۔ جب اس عارضی ، فانی اور ناپائیدار دنیا کے تعلق کا یہ عالم ہے تو اس شخص کی خوشی کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے جو اپنے رب حقیقی کا مقرب اور خاص ہوجائے۔ واقعتاً وہ انسان قابل رشک اور لائق صد فخر ہے۔ آخر میں ان سبھی بچوں کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

مدرسہ کے پرنسپل مولانا مقبول احمد قاسمی نے اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ پروگرام میں مدرسہ کے اساتذہ میں سے قاری محمدابوذر ثاقبی، قاری محمدحسان فرقانی،قاری اسماعیل اکرم فرقانی اور مولانا محمدیاسرقاسمی کی موجودگی قابل ذکر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے