نوراللہ خان

پڑھئے، پڑھائیے اور صاحب کتاب بنئے۔ کم سے کم اہل نصاب ہیں تو ضرور کتاب خریدیئے ۔ اہل نصاب تو اس لائق ہیں کہ زکات دیں اور زکات کے مستحق کو زیادہ نہیں تو نصابی کتابیں خرید کر دیں۔ اہل نصاب ہوکر دوسروں کا حصہ نہ کھائیئے بلکہ اپنے بچوں کی ساری نصابی کتابیں وقت پر خریدیئے۔

اگر مفت خوری سے آگے جاکر زکات خوری کریں گے تو یہ مفت خوری “حرام خوری “ بن جا ئےگی۔ زکات اپنے مستحق بھائیوں کو دیں خود کھاکر اوروں کا استحصال نہ کریں۔ زکات اگر مل بھی جائے تو اسکا کسی بھی صورت میں استعمال اہل نصاب پر حرام ہے ۔ زکات کا مستحق بھی کوئی دائمی اس کا حقدار نہیں ہوتا ہے بلکہ جب اللہ اسے نوازتے تو اسے فورا لینے کے بجائے اپنے مستحق بھائیوں کو دینا چاہئے۔ زکات سب کیلئے نہیں ہے چاہے وہ مکتب میں ہو یا مدارس میں مفت تعلیم ہو۔ آپ اگر نصاب کی مقدار کو پہونچ گئے ہیں تو آپ نصاب تعلیم کو بھی پہونچ چکے ہیں۔ اس لئے آپ نصاب تعلیم پر خاص توجہ رکھیں۔

پھر اگر حیثیت کے باوجود ہم کتاب نہیں خریدیں گے تو ہم صاحب کتاب نہیں بن سکیں گے۔ بلکہ ہمارا حلقہ بھی علمی نہیں بلکہ اوباشوں کا حلقہ بن جائیگا۔ کتاب نہ سہی تو کتاب کے مصنفین کی قدر کریں اور پی ڈی ایف نہ مانگا کریں۔ پڑھنے کی ضرورت ہے ورنہ ہمیشہ اہل کتاب سے پیچھے رہ جائیں گے۔ زمانہ ترقی کررہا ہے۔ ہمیں خیر امت کہا گیا ہے اور خیر ہمیشہ علم وعرفان سے آتا ہے۔ اہل کتاب کو کتابیں ملی تھیں مگر ان کے صحیفوں میں پہلی آیت میں اس طرف ترکیز نہیں تھی جیسا قرآن نے ہم کو ترجیح کے ساتھ علم کی جانب گامزن کیا ہے۔
آپ پڑھئے تاکہ آپ بابو بنیں بلکہ “ صاحب “ بن سکیں ۔ کیونکہ صاحب کا زمانہ ہے۔ چھوٹے صاحب یا بڑے صاحب مگر جلوہ ان کا ہی ہے چاہے کمپنی ہو یا سرکاری ملازمت ، چاہے ماسٹر صاحب یا ڈاکٹر صاحب ہر جگہ صاحب کا ہی جلوہ ہوتا ہے۔ اس لئے صاحب کتاب بنئے۔ مؤلف اور مصنف نہ سہی کسی طرح بھی کتاب سے وابستہ ہوجائیں اسی میں عزت ہے۔

زمانہ قدیم کے قیصروکسری کی طرح آج بھی ہمارا مقابلہ دو اہل کتاب سے ہے۔ وہ دونوں پڑھتے ہیں۔ وہ یہود ونصاری ہماری طرح اہل کتاب ہیں۔ قریبی رشتہ بھی رہا ہے اس لئے تلخیاں بھی بہت ہیں۔ ان سے دوری ہو یا قربت بہر حال علم کے بغیر ان سے معاملات میں ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ وہ پڑھائی کی طرح پڑھائی کرتے ہیں۔ اور وہاں لوگ امتحان میں کم ازکم چٹ بازی نہیں کرتے ہیں۔ ہاں مگر ان کی طرح بننے کے لئے کتاب خریدکر پڑھنا ہوگا کیونکہ مقابلہ سخت ہے۔ تعلیم کی کمی رہ گئی اس لئے جن دنیا کی عظیم قوتوں کے ظلم وجبر کے سبب ان کی مرمت ہوتی تھی ، آج ان کی مذمت نہیں ہوپارہی ہے۔ ہم ظلم کو ختم کیا تھا اور پہلی بار علم کی روشنی سے دنیا کا ہرکونہ روشن ہوا تھا۔ گھر نہیں دل میں بھی چراغ جلائے گئے تھے اور دنیا پہلی بار امن کی سانس لے رہی تھی اور اسکے پیچھے یہی عرفان الٰہی تھا۔

مگر بیت الحکمہ کے بعد ہم اس طرح بڑا مرکز نہ بناسکے لہٰذا اب اچھی اور معیاری کتاب لائیں ۔ پڑھیں اور اگر عمر نہیں بچی ہے تو پڑھوائیں ۔ اہل کتاب محنتی ہیں۔ اس لئے اسی محنت کی ضرورت ہے اور اس لئے ہمیں بھی محنت کو لازم کرنا ہوگا۔ ان کے یہاں دس پاس اور انٹر پاس کا تصور جہیز کیلئے نہیں بلکہ ایک سماج کا اچھا شہری اور ترقی کیلئے ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں اہل علم ، باصلاحیت ، ذہین وعقلمند بلکہ صاحب رائے پیدا ہوتے ہیں۔ جو دنیا کو رائے اور مشورہ دیتے ہیں ۔ اور ہم سست نکمے بنکر ان کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہ گئے۔ ہم کو مفت میں بھی جو ملا وہ بھی ہم ڈھنگ سے نہیں پڑھتے ہیں۔ ہم پڑھیں گے اور ان شاءاللہ تخریب نہیں “تعمیر جہاں” کریں گے ۔ جہاں امن وامان ایسا ہوگا کہ امن ورما اور امان اللہ خان دونوں ایک ساتھ اور اچھے پڑوسی ہوں گے۔

کتابیں ہم سب کے پاس ہیں بس محنت سے کون پڑھتا ہے اسی کا مسئلہ ہے۔ تعلیم سے ہی ترقی ہوگی۔ ہاں کب کیا پڑھنا ہے یہ بھی دھیان رہے۔ اب تبدیلی لائیں ، سائنس اور جغرافیہ بھی پڑھیں ، سائنسی ترقیات کا مطالعہ کرکے ریسرچ کریں تاکہ ہمارا سیاسی جغرافیہ نہ بدلا جاسکے ۔۔۔۔اور کتاب لیکر کباب کھائیں مگر کتاب کی “ تا” کو غائب کرکے مکمل “ کباب” نہ بنائیں۔ تال میل رکھیں۔ آپ کو روحانی غذا بھی چاہئے تبھی فکری قوت کے ساتھ اہل کتاب کا مقابلہ ہوسکے گا۔
ہم اہل قریش کی تاریخ سے واقف ہیں۔ اسی خاندان کے چشم وچراغ نے علمی روشنی پھیلائی تھی۔ آج ضرورت ہے کہ قریشی کباب بھی کھائیں اور اسی خانوادہ کے چشم وچراغ کو مشعل راہ بناکر علمی روشنی پھیلائی جائے۔ ہمارا روشن ماضی تابناک تھا ۔ مستقبل کے اندھیروں کے واسطے ابھی سے روشن ستاروں کی ضرورت ہے۔ اس لئے اپنے درمیان نجمہ اور نجم الدین کو اسٹائلسٹ نہیں اچھا علمی ودینی اسٹار بنایا جائے جو حقیقی معنوں میں اچھے شہری بنکر ملک وملت کے خادم بن سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے