اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں عظمتیں، برکتین اور رحمتیں ہوں،تو ہمیں نماز کا پابند ہونا پڑیگا :مولانا سید عرفان کچھوچھوی

بارہ بنکی:(ابوشحمہ انصاری): گزشتہ شب دیویٰ میلہ نمائش ایسوسی ایشن کی جانب سے دیو’ی میلہ پنڈال میں ایک جلسہ سییرت النبی و آل انڈیا نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہوا۔جس کی صدارت مولانا سید عرفان کچھوچھوی اور مولانا سلمان اطہر نے مشترکہ طور پر کی،اور نظامت کے فرائض نوجوان عالم دین مولانا منہاج عالم ندوی نے انجام دئے،جبکہ بطورمہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر محمد نسیم نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز قاری مجیب فتح پوری کی تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد نور محمد نجمی لکھنؤی نے نعت پاک پیش کی۔جلسہ سیرت النبی کانفرنس کے کنوینر چودھری طالب نجیب کوکب نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سبھی علمائے کرام اور شعراء اور مہمان کا استقبال کیا۔صحافی حشمت اللہ نے اپنے افتتاحی خطبہ میں کہا کہ ہمارے لئے علمائے کرام قابل احترام ہے،ان کے ذریعے سے ہمیں دین اسلام کا بڑا علم حاصل ہوتا ہے۔ہم سبھی کو نبی کی سیرت کے مطابق اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔جلسہ سیرت النبی کی صدارت فرما رہے مولانا سید محمد عرفان کچھوچھوی نےاپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ نماز دین کا ستون ہے، جسنے نماز کو چھوڑ دیا گویا اسنے دین کو چھوڑ دیا۔ جسنے نماز کو قائم کیا اسنے دین کو قائم کیا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں برکتیں ہوں، عظمتیں ہوں،رحمتیں ہوں،تو ہمیں نماز کا پابند ہونا پڑیگا۔ نماز مومنوں کی معراج ہے۔آپ صل اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ہمارا پڑوسی بھوکا ہےتو آپنے اپنا کھانا اسے بھیجوا دیا۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کی ہماری ہر جگہ عزت ہو اور اللہ ہم سے راضی ہو جائے تو ہمیں محمد صل اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہوگا_ کانفرنس کے مقرر خصوصی مولانا سید رضا امام پرنسپل مدرسہ دارالقرآن لکھنؤ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وسلم کو ایک طبقہ نور کہ رہا ہے اور ایک طبقہ بشر کہ رہا ہے، اور بحث ہو رہی ہے،جبکہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نور بھی ہیں اور بشر بھی ہیں اسکے دلائل بھی موجود ہیں۔اللہ نے آپکے پاس دو چیزیں بھیج دی ہیں ایک نور یعنی محمد صل اللہ علیہ وسلم اور دوسری چیز قرآن، اگر ہم ان دونوں چیزوں پر مضبوطی سے جمے رہےتو ہماری زندگی دونوں جہاں میں کامیاب ہو جائے گی۔آگے مزید انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں سبھی مذاہب کے ماننے والے لوگ ہیں، باقی کسی ملک میں اتنے مذاہب کے ماننے والے لوگ نہیں ہیں، یہ ہمارے ملک کی خوبصورتی ہے۔ سبھی لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر بھاٸی چارے اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔آخر میں مولانا نے کہا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو تاکہ آپس میں اختلاف نہ ہو، نفرتیں نہ ہوں، انتشار نہ ہو اور آپس میں اتحاد،امن و اماں،ایثار و اخوت ہو۔

نعتیہ مشاعرے میں محمد صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مبنی شعراء نے اشعار پڑھے، پسندیدہ اشعار نذر قارئین ہیں۔

جن و انسان و ملائک پہ ہی موقوف نہیں

کون مخلوق ہے جسمیں نہیں چرچا انکا

مولانا سلمان اطہر

یہ میرے جیسے گنہگار سے کہاں ممکن

کہ انکا امتی ہونے کا حق ادا ہو جائے

نصیر انصاری

اپنا لو مسلمانوں سرکار کی سیرت کو

درکار اگر تمکو کجھ خیر سگالی ہو

صغیر نوری

طائف میں ظلم سہکے بھی دشمن کو دی دعا

پڑھکر تو دیکھئے کبھی سیرت رسول کی

احمد سعید حرف

گنہگار ہوں لیکن یقین ہے مجھکو

دعا نہ ہوگی کوئی بے اثر مدینے میں

شکیل گیاوی

دین و دنیا میں اسی شخص کی شہرت ہوگی

جسکو سرکارِ دوعالم سے محبت ہوگی

حنیف راہی مدھیہ پردیش

اس کے علاوہ مختار فاروقی،قاری مجیب فتح پوری،آدرش بارہ بنکوی، صبا وارثی، نے بھی اپنا نعتیہ کلام پیش کیا۔آخر میں ناظم مشاعرہ مولانا منہاج عالم ندوی کی دعا پر جلسہ سیرت النبی کانفرینس کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر چودھری وقار، فرحت اللہ ایڈووکیٹ،چودھری فیض محمود،سید علی ایڈووکیٹ،محمد شعور کامل ایڈووکیٹ سمیت کثیر تعداد میں سامعین موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے