میرؔبیدری ، کرناٹک
سامنے اُس کے ، اُسی کو دیکھنا
زندگی ہے ، زندگی کو دیکھنا
دیکھئے دشمن یہی تو چاہے گا
ہم میں بے بال وپری کو دیکھنا
کیسے بندے ہو، زمیں پررب کی آج
چاہتے ہو بے رُخی کو دیکھنا
ہم سے دیکھا ہی نہیں جاتا خدا
کشتی ء حق ڈولتی کو دیکھنا
روح تک احساس پیدا جوکرے
ایسی لیکن دوستی کو دیکھنا
ہم کو بھی برداشت کرنا ہی پڑا
بے دِلی کو، سرسری کودیکھنا
لاکھ اندھیرے ہوں بفضل ِ ربی میرؔ
ہم نے سیکھا روشنی کودیکھنا
