نوراللہ خان

 

میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا

گاؤں سے جب بھی آگیا کوئی

मेरा बचपन भी साथ ले आया

गाँव से जब भी आगया कोई।

“ماٹی مہوتسو” دہلی میں مقیم پوروانچل ، اترپردیش کے باشندوں کا ایک کلچرل پروگرام ہے جو ان کے قدیم وجدید سماجی و روایتی رسم رواج کی عکاسی کرتا ہے۔ آج زیارت کا موقع ملا ۔ تصویروں سے محسوس کیجئے کہ سنگھرش کریں تو گاندھی جیسا سوشل ورکر بنکر بلا تشدد کچھ جنگ بھی جیتی جاسکتی ہے۔ انڈیا گیٹ جیسا “ باب ترقی” بھی بن سکتا ہے اور جس طرح انڈیا گیٹ بھارتی مجاہدین کی یاد دلاتا ہے اسی طرح دروازہ بناکر ہم سماج سے شرپسندوں کو باہر کا راستہ بھی دکھا سکتے ہیں۔ ایک تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی تعمیر میں خواتین نے بھی محنت کی ہے اور گاندھی جی کی ٹیم نے ملکر مسلمانوں اور سبھی دھرموں کے ساتھ ایک بڑا انقلاب پیدا کیا تھا۔

“ماٹی مہوتسو “میں کھانا، پروگرام بول بھاشا اور لوگوں سے مل کر اس کلچر کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ ہم اسی مٹی سے ہیں۔

یہاں میڈیا کے لئے چھپر کا ایک روم بنا ہوا ہے۔ گرچہ یہ ایک کلچر کی عکاسی ہے مگر سماجی اور ایمان دار میڈیا واقعی چھپر والی ہی زندگی گزار رہا ہے۔ سماج کے امن پسند لوگ آئیں تاکہ تاکہ یہ چوتھے ستون والے لوگ بھی سکون پاسکیں ورنہ یہ ایمان دار لوگ بطور خاص اردو صحافی نہ رہے تو امن ورما اور امان اللہ تو دور امان اللہ اور امین احمد خود ہی لڑتے رہیں گے اور دوسرے لوگ ان کی لڑائی کا فائدہ اٹھالیں گے۔ تعلیم پر توجہ دیں تاکہ یہ امن کمار اور امان اللہ سب پڑھیں اور محنت کرکے محبت کی بڑی بڑی دوکان نہیں بلکہ شوروم کھول سکیں۔ محنت کرکے اسکالرشپ کا پتہ لگائیں اور اچھے لوگ اسکالرشپ کا نظم کریں تو کافی اسکالرز پیدا ہوسکتے ہیں۔

اب ضرورت ہے کہ ہم اس خطے کو ہرا بھرا کریں جہاں نفرت کی دوکان بند ہو اور محبت کا شوروم کھلے۔ ترقی کا دروازہ کھلے اور مکار لوگ سماج و سیاست سے باہر جائیں اور جس طرح ہم اس مٹی کی خوشبو محسوس کرتے ہیں۔ دوبارہ مٹی میں جانے کا احساس بھی زندہ رکھیں۔ اسی “ ماٹی” میں دفن ہونا ہے اس لئے ماٹی سے زیادہ دل لگی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سماج سیوا، انسانی اقدار کا تحفظ اور صحیح معنوں میں انسان بنکر خیر امت اور اشرف المخلوقات ہونے کاعملی اعلان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مادی نہ ہوکر روحانی احساس بھی پیدا کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے