- ڈایٹ بانسی میں منعقدہ اردو اساتذہ کے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ میں خطاب
- تقرری کے طویل عرصہ بعد اردو زبان و ادب پر مشتمل تربیتی ورکشاپ میں شامل اساتذہ کی دلچسپی اور خوشیاں قابلِ دید
سدھارتھ نگر: اردو نہایت ہی شیریں اور مقبول عام زبان ہونے کے باوجود آج غیروں سے زیادہ اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو رہی ہے۔ اردو کی پرانی آن بان اور شان برقرار رکھنے کے لیے اردو اساتذہ کو زبانِ اردو کے فروغ کیلئے منظم منصوبہ بندی اور ماحول سازی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ضلع تعلیمی و تربیتی ادارہ یعنی ڈایٹ بانسی سدھارتھ نگر میں منعقدہ اردو اساتذہ کے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ میں خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار پروفیسر فرقان احمد نے کیا۔
جناب فرقان احمد کی خصوصی نگرانی میں جاری پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ میں بطور حوالہ نگار نفیس حیدر رضوی، ملِک فیض احمد، نیاز کپلوستوی، شمس الحق اور محمد اسرائیل اردو اساتذہ سے اردو زبان و ادب کی ابتداء و ارتقاء، قواعد بلاغت و عروج، اصولِ تدریس اور نصابی کتب کی اہمیت اود تدریسی معاون اشیاء کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ اپنی تقرری کے ایک طویل عرصہ کے بعد اردو زبان و ادب پر مشتمل تربیتی ورکشاپ میں شامل اساتذہ کی دلچسپی اور خوشیاں قابلِ دید ہیں۔ ڈایٹ بانسی میں ہندی، انگریزی اور سنسکرت زبانوں پر مشتمل تربیتی ورکشاپ کے بعد اردو زبان کے تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کے لیے محمد حنیف، جمیل احمد، حسن آراء، ڈاکٹر شمشاد احمد، شفیق الزماں خان، کرّار علی اور شمس تبریز وغیرہ اردو اساتذہ نے پروفیسر فرقان احمد اور پروفیسر انوراگ شریواستو کے ساتھ ڈایٹ پرنسپل اوپیندر کمار صاحب کی ستائیس کی ہے۔
ورکشاپ میں محمد الیاس، ملِک جاوید احمد، تجمل حسین، مجیب الرحمان، یعقوب احمد، رخسار فاطمہ، ناز بانو، ارشاد احمد، عتیق الرحمن، محمد ارشد اور شمس الدین وغیرہ کے ساتھ پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ میں سدھارتھ نگر ضلع کے سبھی بلاکوں سے تقریباً اسّی اردو اساتذہ شرکت کر رہے ہیں۔
