عائشہ صدیقہ‘مانوی

معاون ضلعی ذمہ دار رائچور

رائچور: جماعت اسلامی ہند شہرِ سندھنور (ضلع رائچور) کی جانب سے مرد و خواتین کے لئے سہ روزہ اجتماعی مطالعہ قرآن کا اہتمام کیا گیا۔ اس مطالعہ قرآن کے نگران کار اور رہنما محترم محمد عبداللہ جاوید صاحب ‘رائچور رہے۔۔ اس سہ روزہ کلاس کی خصوصیت یہ رہی کہ قرآن مجید کی منتخب کردہ آیات پر پی پی ٹی پریزنٹیشن (PPT presentation) کے ذریعے سے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔۔ جس کو (Microscopic Study) کہہ سکتے ہیں۔۔ قرآنِ مجید پر تدبر کے لئے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ، اس طرح کی قرآن اسٹڈی سرکل کی مجلسیں منعقد ہوں، جس میں قرآن کی منتخب آیات پر بڑی ہی باریک بینی کے ساتھ گفتگو ہو۔۔ خود قرآنِ مجید بھی اسی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے۔۔ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ ال٘قُر٘اٰن اگر اس طرح ہم سب قرآنِ مجید پر تدبرکرنا لازم کر لیں، تو وہ دن دور نہیں۔۔ جب امتِ محمدیہﷺ، اس شعر کی مصداق ٹھہرے:

ہر لحظہ مومن کی نئی آن نئی شان

گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

 

یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن

پہلا دن سورہٴ ہونس: آیات 57، 58۔ان آیات سے قرآنِ مجید کی اہمیت واضح ہوتی ہے:

1) قرآنِ مجید کی صحت و تجوید کے ساتھ تلاوت کرنا

2) غور و فکر

3) عمل اور انطباق

اجتماعی مطالعہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ، ان منتخب آیات کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے باریک بینی کے ساتھ اس پرقرآن و سنت اور سلفِ صالحین کے اقوال کے ذریعے سےتدبر کیا جاتاہے۔۔

ان آیات میں قابلِ غور نکات :

1) قرآن تمام انسانوں کو کیوں مخاطب کرتا ہے؟

2) قرآنِ مجید نصیحت

3) قرآنِ مجید رب کی طرف سے کیوں؟ (یعنی اس آیت میں رب کی صفت استعمال ہوئی ہے)

4) دلوں کے امراض کی شفا (روحانی و جسمانی)

5) قرآن ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و رحمت

6) قرآن اللہ کا فضل اور اس کی رحمت

7) قرآن ملنے پر جشن

8) قرآنِ مجید تمام چیزوں سے بہتر

قرآنِ مجید تمام انسانوں کو مخاطب کرتا ہے کیونکہ یہ تمام انسانوں کے لئے ہے، خیر خواہی اور نصیحت ہے، اس کی جانب سے جو تمام انسانوں کا رب ہے یعنی پروردگار اور پالنہار ہے۔۔ لیکن ہدایت اور رحمت انہیں کے لئے ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں، ہدایت کے معنی ہیں، صراطِ مستقیم کا مل جانا اور رحمتہ مراد، اس سیدھے راستے پر چلنے اور قائم رہنے کے لئے، مدد ملنا۔۔

فَل٘یَفْرَحُوا سے مراد دل کی وہ لذت ہے ، جو کسی محبوب چیز کے ملنے پر حاصل ہوتی ہے۔۔ قرآن ملنے پر خوشی منانے کا طریقہ:

شَھ٘رُ رَمَضَانَ الَّذِي اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنِ ھُدَی لّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتِ مِنَ الْھُدٰی وَالْفُرقَانِ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہ

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق اور باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔۔ لہذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے(سورہ البقرہ:۱۸۵)۔

دوسرےدن سورةالاحزاب: آیت:35۔اس کے قابلِ غور نکات:

1)مسلمات 2) مومنات 3) قانتات 4) صادقات 5) صابرات 6) خاشعات 7) متصدقات 8) صائمات 9) حافظات 10) ذاکات 11) ان کے لئے مغفرت اور اجرِ عظیم

اس آیت کا پسِ منظر کہ، صحابیات نے سوال کیا کہ اے رسول ﷺ ہم خواتین بڑے خسارے میں ہیں، آپ نے دریافت کیا کہ کیوں؟ عرض کیا کہ کارِ خیر کے لئے صرف مردوں کا ذکر ہوتا ہے، ہم خواتین کا کیوں نہیں؟ تب یہ آیت نازل ہوئی۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ، خواتین کے اندر بھی یہ جذبہ ہونا چاہیے نیکیوں میں آگے بڑھنے اور سبقت لے جانے کی فکر کریں۔۔

ان صفات کی مختصر وضاحت

چونکہ مخاطب خواتین ہیں تو، صرف خواتین کا ہی ذکر ہوگا :

مسلمات: اپنے معاملات اللہ کے حوالے کر دے

مسلمان وہ ہے جس زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں

مومنات: تم میں کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشاتِ نفس، اس چیز کے تابع نہ ہو جائیں جسے میں لے کر آیا ہوں

قانتات: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ کرنے والی

صادقات: قول و عمل سے سچ پر قائم رہنے والی، عہد کو پورا کرنے والی، ہر حال میں حق بات کہنے والی

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں اور گناہوں سے بچنے کے لئے صبر کرنے والی

نیکیوں کو انجام دینے اور برائیوں سے بچنے میں صبر کا مظاہرہ کرنے والی

مصیبتوں اور پریشانیوں وقت صبر کرنے والی

خاشعات: عبادت کے وقت اپنے قلب اور اعضاء کے ذریعے تواضع ظاہر کرنے والی

اسی ضمن میں مزید صفات کا علماء نے اضافہ کیا ہے

المتواضعات: تواضع اختیار کرنے والی

الخائفات: اللہ سے ڈرنے والی

المصلیات: نماز پڑھنے والی

متصدقات: جو مال میں خرچ کرنا لازم ہے، وہ خرچ کرنے والی

فرض اور نفل، دونوں طریقوں سے مال خرچ کرنے والی

جمع کر کے رکھنے کے بجائے، جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے خرچ کرنے والی

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید قرآن میں

کل طریقے:

1) خوش حالی 2) بد حالی 3) رات 4) دن 5) کھلے 6) چھپے

صائمات: فرض اور نفل روزے رکھنے والی

صوم کے معنی رکنے کے ہیں۔۔ صائمات سے مراد وہ خواتین جو گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے دور رہتی ہیں

حافظات: حرام کاموں سے اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرنے والی

ذاکرات: اپنے دل اور زبان سے اللہ کا ذکر کرنے والی

قرآن مجید کی تلاوت کرنے والی

مغفرت اور اجرِ عظیم: بھول چوک میں ہونے والے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔

یہ اللہ کی جانب سے وعدہ ہے، ان خواتین کے لئے جو اپنی شخصیت کو ان صفات سے متصف کرے۔۔

اللہ تعالیٰ ہم سب خواتین کو ان ساری صفات سے متصف فرمائے

تیسرے دن سورة التحریم: آیت:8 کا مطالعہ ہوا۔

توبہ کیا ہے؟

توبہ گناہ کے بعد ہے۔۔

گناہ کرنے کے بعد کی کیفیات تین طرح کی ہیں:

1) "انکار” کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔

2) بہانے تلاش کرنا

3) "پچھتاوا” نفس ملامت کرتا ہے۔

یہی پچھتاوا توبہ ہے۔۔ یعنی توبہ کا عمل انسانی فطرت کا تقاضہ ہے

توبة نصوحا: سے متعلق اقوال

عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں توبة النصوح سے مراد بندے کا گناہوں سے باز آ جانا اور، اس ارادہ کے ساتھ کہ پھر کبھی اس کا ارتکاب نہیں کرے گا۔

نصوح سے مراد وہ گناہ ہے، جو وہ پسند کرتا تھا، اس سے نفرت کرے، اور جب اسے یاد آ جائے، تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔

توبة النصوح سے مراد مقبول توبہ ہے۔۔ اور توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی، جب تک اس میں تین شرطیں نہ ہوں۔

1) یہ خوف کہ توبہ قبول نہ ہوگی

2) یہ امید کہ توبہ قبول ہوگی

3) یہ مصمم ارادہ کہ، اطاعت پر استقامت کا مظاہرہ ہوگا

توبة النصوح سے مراد یہ بھی ہے کہ:

جس کا حق ہو، اس کو واپس کر دینا

کسی کا قصور ہو تو معاف کر دینا، یا اپنا قصور ہو تو معافی مانگ لینا

ہمیشہ اطاعت کا ارادہ کرنا

اگر انسان توبة النصوح کرتا ہے تو رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ، گناہوں سے توبہ کرنے والا شخص، اس کی طرح ہے، جس پر کوئی گناہ نہیں۔

توبة النصوح جنت کو لے جانے کا ذریعہ بنتی ہے۔۔ تو ہمیں چاہیے کہ توبة النصوح کریں اور اپنے اعمال کو درست کر لیں۔۔ اور ایسے اعمالِ صالح کریں، جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو۔۔ اور جنت میں لے جائیں۔۔ اور ایسے تمام اعمال سے بچیں، جو جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں۔

سورۃ التحریم کی اس آیت میں اور سورة الحدید کی آیت میں، قیامت کے دن مومنین کو ، اللہ تعالیٰ کی جانب سے نور دئیے جانے کا ذکر ہے۔۔ لہذا۔۔اپنی دعاؤں میں ہںم ،اللہ تعالیٰ سے نور طلب کریں۔۔ اور سب سے بڑی چیز ہے مغفرت

غَفَرَ چھپانا اور محفوظ رکھنا

مغفرہ: حفاظت اور ستر پوشی کرنا

یعنی کسی شخص کے گناہوں کو بخشنا اور اس، سزا سے اسے بچانا، جس کا وہ فی الواقع مستحق ہو چکا ہے۔

اللہ تعالیٰ، ہم سب مومنین کی مغفرت فرمائے۔

اجتماعی مطالعہ قرآن کے تعلق سے چند اہم باتیں:

اجتماعی مطالعہ قرآن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ، شرکاء کو بھی، اس میں بھرپور حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

ڈسکشن کرنے کی وجہ سے عمل کا جذبہ ابھرتا ہے۔۔۔

قرآن مجید سے مانوس ہوتے ہیں۔۔۔۔

اس بات کا آئیڈیا ملتا ہے کہ، قرآن پر کس طرح تدبر کریں۔۔

قرآن مجید میں غوطہ زن ہونے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

امتِ مسلمہ، اختلافات سے دور ہو کر، تدبر و تفکر کی طرف متوجہ ہو سکتی ہے۔۔ کیونکہ، قرآن مجید پر تدبر کرنے سے تنگ نظری اور تنگ دلی دور ہوتی ہے۔۔ وغیرہ

اللہ تعالیٰ کا ہی یہ احسان اور اسی کی توفیق اور عنایات ہیں کہ، ایسی مجالس کو منعقد کرنے اور اس میں شرکت کرنے کے مواقع ملتے رہتے ہیں۔

مرد حضرا ت کے لئے پہلے دن سورہ الانفال آیات ۲ تا ۴ کا مطالعہ ہوا۔جبکہ دوسرے دن سورہ المجادلہ آیت ۱۱ اور تیسرے دن سورہ النازعات آیات ۳۷ تا ۴۱ کے اجتماعی مطالعہ قرآن کا اہتام ہوا۔

ہم سب مشکور ہیں، سندھنور شہر کے امیرمقامی محمد حسین صاحب کے، اور ناطمۂ خواتین سمیہ بیگم صاحبہ کے اور معاون ناظمہ لبنہ بلگامی صاحبہ کے، کہ اس سہ روزہ قرانی کلاس کے انتظامات بہت ہی احسن انداز میں کئے اور نظم کی پابندی جس طرح کی اور کروائی، وہ صرف انہی کا حصہ ہے۔۔اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے