محمد رضوان گوہر ندوی 

کے این پبلک اسکول، محلہ قلعہ نانپارہ، بہرائچ، یوپی

 

ہر سال دسمبر کا مہینہ جب اپنے اختتام کو پہنچنے لگتا ہے تو 1999 میں 31 دسمبر کا وہ دن ضرور یاد آجاتا ہے جب انیسویں صدی کی سب سے محبوب و مقبول، ہمہ جہت و ہمہ گیر، جامع الکمالات اور نادرہ روزگار شخصیت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی نے صدی کے آخری دن اپنے حقیقی خالق و مالک کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے دنیا اور دنیا کے تمام جھمیلوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دینے کا اعلان کر دیا تھا، رمضان کا مبارک مہینہ تھا، آخری عشرہ میں جمعہ کا دن تھا، نمازِ جمعہ کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں، معمول کے مطابق سورہٴ کہف کی تلاوت سماعت فرما رہے تھے، اچانک رب کا منادی سفر آخرت کے لئے آواز لگانے لگا، ندا پر لبیک کہا اور سفر آخرت پر پوری بشاشت، رضامندی اور اطمینان کے ساتھ روانہ ہو گئے، یہ اس صدی کا سب سے عظیم حادثہ تھا، علمی، ادبی، سیاسی، سماجی اور دینی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی تھی، ایسا لگا جیسے دینی اور علمی دنیا کی رفتار یک بیک رک سی گئی ہو، ایسا تکلیف دہ حادثہ تھا جس کا زخم ابھی تک بھر نہیں سکا ہے اور شاید بہت دنوں تک اس کا مداوا آسان نہ ہو۔

 ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے پوری زندگی افادہ اور استفادہ میں گزاری، فراغت اور بے کاری کو کسی بھی انسان کے لئے بہت نقصان دہ بلکہ سم قاتل سمجھتے تھے، پوری کوشش کرتے تھے کہ انسانی صلاحیتوں کا بر موقع استعمال ہو، صلاحیتیں ضائع ہونے سے بچ جائیں، قیادت و سیادت کا بے مثال ہنر تھا ان کے پاس، دو چار ملاقاتوں میں ملنے جُلنے والوں کی صلاحیت کا درست اندازہ لگا لیتے تھے اور بغیر کسی تاخیر کے اس کو کام پر لگا دیتے تھے، ناکام سے ناکام افراد ان کی کیمیا اثر تربیت سے کام کے بن جاتے تھے اور اپنے میدان میں کامیاب ہو کر نیک نامی کا ذریعہ بنتے تھے، کردار سازی، آدم گری اور انسانیت نوازی میں یکتائے روزگار تھے، مٹی کو چھو لیتے تو اسے سونے سے قیمتی بنا دیتے، جہاں جاتے اور جس سے ملتے اس پر اپنے اعلیٰ اخلاق، پاکیزہ سیرت، عالمانہ شان و شوکت، مومنانہ بصیرت و معرفت، علم و حکمت، نیکی و شرافت، فراست و متانت اور فضیلت و مہارت کا گہرا نقش قائم کردیتے، سب کو جوڑ کر ایک مالے میں پرونے کا جو ملکہ ان کو حاصل تھا اس کی مثال کئی صدیوں میں نہیں ملتی، عجیب پر کشش اور ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے، ہر سماجی انجمن، ملی تنظیم، تعلیمی ادارہ، مخلص سیاسی رہنما اور خانقاہی مرشد سے ان کی وابستگی ان کی انسانیت نوازی، اعلیٰ ظرفی اور خدمت خلق کی واضح ترین مثال ہے، وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ان کے مناصب اور عہدے ان کی شخصیت کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں، وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ جیسے بڑے ادارے کے ناظم تھے، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے رکن تاسیسی تھے، اسلامی دعوت قاہرہ کے رکن تھے، عالمی رابطہ ادب اسلامی کے بانی و صدر تھے، مجلس علمی لکھنؤ، دینی تعلیمی کونسل اترپردیش، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، دارالمصنفین اکیڈمی اعظم گڑھ، آکسفورڈ سنٹر برائے اسلامک اسٹڈیز کے صدر تھے، مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند، رابطۃ الجامعات الاسلامیہ رباط مراکش، مجلس شوریٰ جامعہ اسلامیہ عالمیہ اسلام آباد، مجمع اللغۃ العربیۃ قاہرہ، مجمع اللغۃ العربیۃ اردن، شاہی اکیڈمی برائے تحقیقات تہذیب اسلامی، ادارہ آل بیت اردن جیسے اداروں کے رکن رکین تھے، سیکڑوں مدارس و مکاتب کے مشیر، صدر و سرپرست تھے، ان کو ان کی خدمات کے صلے میں متعدد قیمتی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا، شاہ فیصل ایوارڈ اور ممتاز اسلامی شخصیت کا بڑا ایوارڈ، انھوں نے بلا تردد دینی مدارس و مکاتب کو تقسیم کرکے دنیا پرستی سے دوری اور حرص و لالچ سے بے زاری کا اظہار کیا، اتنی گوناگوں مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود دو سو سے زائد تصنیفات و تالیفات کا منظر عام پر آنا حیرت انگیز کارنامہ ہے۔

باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا، برائی اور بدی کی جگہوں پر سچائی اور راستی کا برملا اظہار کرنے والا بے لوث، مخلص اور بے باک مفکر دنیا نے ابو الحسن ندوی کی طرح بہت کم دیکھے ہوں گے، وہ موجودہ دور میں عدیم المثال اور فقید النظیر تھے بلکہ اپنی مثال آپ تھے، آج ان کو رخصت ہوئے تیئس سال ہوگئے لیکن ہر موقع پر ان کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے، اور بے ساختہ دل سے آواز آتی ہے کہ الہی پھر کوئی علی میاں پیدا کردے۔

حیرت ہوتی ہے کہ بیرون ملک متعدد ملکوں کا کئی کئی مرتبہ سفر کرنے والا اور اندرون ملک اوسطاً ہر دن پچیس تیس کلومیٹر کے فاصلے میں مشقت سفر برداشت کرنے والا یہ درویش صفت انسان دو سو سے زائد تصنیفات و تالیفات کیسے کر گیا، ان میں بعض کتابیں تو ایسی ہیں کہ اگر ایک شخص پوری زندگی میں ایک ہی کتاب لکھ جائے تو اس کے لئے بڑے کارنامے سے کم نہیں ہے، مولانا علی میاںؒ کا علمی و ادبی کارنامہ گزشتہ پوری صدی کا ماحصل اور نچوڑ ہے، اگر ان کی علمی کاوشوں کو ایک لمحے کے لئے ہٹا دیا جائے تو پوری صدی سونی اور مایوس نظر آتی ہے۔

ان کے جیسے دیدہ وروں اور دور اندیش مفکرین سے امت کو ہمیشہ بہت فائدہ ہوا ہے، اور یہ فیضان لا محدود ہوتا ہے، آج ان سے فائدہ اٹھا کر بے شمار شخصیتیں آسمان علم و کمال پر آفتاب بن کر چمک رہی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا نعم البدل عطا فرمائے، انہوں نے پیام انسانیت کے بینر تلے جو انقلابی کام کیا اس نے ہندوستانی ماحول میں ایک انسان کو زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ بتایا، اگر انھیں رہنما خطوط پر آج کا انسان چلنا شروع کردے تو موجودہ دور کی زہر آلود فضا کو خوش گوار بنانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے، کتنا خطرناک اور خوف ناک ماحول ہے، آج ذرا ذرا سی بات پر گردن ناپ دی جاتی ہے، عیار، چال باز، ظالم اور جابر لوگ پیسہ، رشوت، اپنی ضد و انا اور آمرانہ سلوک کی وجہ سے سزا سے بچ نکلتے ہیں، معصوم، بے گناہ اور سادہ ظرف لوگ مجرم بنا دئے جاتے ہیں، بقول حفیظ میرٹھیؒ:

خون اس دور گرانی میں بہت سستا ہے

رات پھر گاؤں میں اک قتل ہوا پانی پر

رب کریم ان کے درجات بلند کرے، ان کے مشن اور پیغام سے خلقت کو پورا فائدہ پہونچائے اور پھر ایسے افراد پیدا کردے جو موجودہ دور کے چیلنجوں کا جواب دے کر انسانیت کی کشتی کو بھنور سے نکال کر ساحلِ نجات تک پہونچا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے