لکھنؤ: معاشرہ کے اصلاح میں خواتین کا اہم رول ہوتا ہے۔ بچوں کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے، بچے بچپن میں جو اپنے گھر پر سیکھتے ہیں اسی کی بنیاد پر ان کے اخلاق سنورتے ہیں۔ معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے ازالہ میں بھی خواتین نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ہند کی سابق سکریٹری عطیہ صدیقہ نے کیا۔
انہوں نے سماجی مسائل اور ان کے سد باب کے ساتھ عورتوں کی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے انھیں مزید سرگرم عمل رہنے کی رہنمائی کی۔ عطیہ صدیقہ نے کہا کہ خواتین اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں خوش مزاجی اور حسن اسلوبی کے ساتھ روبعمل لائیں۔ زندگی کی الجھنوں، پریشانیوں کا واحد علاج بتاتے ہوئے آپ نے کہا کہ قرآنی تعلیمات کو عمل میں لائیں اور اسے عام کریں۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے مختلف نکاتِ دینیہ، قانون وراثت، زکوٰۃ، غیر سودی سوسائٹی کا قیام، مقصدِ زندگی کی تکمیل اور خوف خدا اور فکر آخرت کی یاد دہانی کرائی۔ آپ نے ان نازک حالات میں اسلامی معاشرے کو مسلکی اختلافات سے بالا تر ہو کر آس پاس کی اجتماعیت جو نص قرآن و حدیث کی مبین ہو اس سے جڑنے کی تلقین کی۔ مزید آپسی انتشار جس کمزوری کا مخالف قوم فائدہ اٹھا رہی ہے۔
اس سے اُبرنے پر زور دیتے ہوئے عطیہ صدیقہ نے کہا کہ ہم سب مل کر اسلام کے پیغام کو عام کریں۔ معاشرے میں پھیلی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ اللہ تعالی کوششیں دیکھتا ہے، نتائج نہیں۔
پروگرام کے شروع میں صائمہ علی نے قرات اور شفاء فاطمہ نے حمد اور کلثوم فاطمہ نے نظم پڑھی۔ اظہار تشکر اور دعا زینت کوثر پیش کیا  اور پروگرام کی نظامت ناصحہ رئیس فلاحی نے انجام دی۔ پروگرام میں خصوصی طور پر ناظمۂ شہر نغمہ پروین،  صالحہ رئیس فلاحی، سلمیٰ سکندر اور  جماعت کی ارکان و کارکنان اور کثیر تعداد میں طالبات شریک تھیں۔
مذکورہ اطلاع جماعت اسلامی ہند، یوپی مشرق کے میڈیا سیل نے جاری ایک پریس ریلیز میں دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے