پٹنہ(٢جنوری): امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھار کھنڈ کے نایب ناظم مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی نے مولانا وصی احمد شمسی کے انتقال پر اپنے گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا کا مطالعہ و سیع تھا، ان کی نظر بہار کی تاریخ، شخصیات ملی تحریکات، اس کے اثرات پر بڑی وسیع اور وقیع تھی۔

ان کی کتاب ‘یادوں کی بہار’ معلومات کا خزینہ اور یادوں کی انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ان کی فکر راست، شعور بالیدہ تھا۔ ان کا تعلق اہل علم اور ملک کی نامور شخصیات سے گہرا تھا۔ وہ میری تحریروں کے مداح، اور نقیب کے مستقل قاری تھے۔ اپنی کتاب میں جس محبت سے انہوں نے میرا تذکرہ کیا ہے وہ ان کی محبت کا مظہر ہے۔ وہ اچھے استاذ تھے۔ ان کے شاگرد ملک و بیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کا خاندان مشہور سیاسی خاندان ہے۔ وہ امیر شریعت خامس مولانا عبدالرحمن کے داماد تھے۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی اسے اپنی ترقی کا زینہ نہیں بنایا۔ وہ ایک غیور، خوددار اور مہمان نواز شخص تھے۔

کچھ دنوں قبل بائیک سے گر جانے کی وجہ سے کولھے کی ہڈی ٹوٹ گئ تھی۔ جس کی اطلاع خود انہوں نے مجھے فون سے دی تھی اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ادھر مسلسل سفر پر رہنے کی وجہ سے اس کا موقع نہیں ملا اور وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اللہ مغفرت فرمائے، پس ماندگان کو صبر جمیل دے، آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے