اعداد: محمد وسیم راعین عمری
حرمین کی زیارت کی تمنا اور تڑپ ہر مسلمان کے دل میں ہے ۔ اورہونی بھی چاہیےکیونکہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کا قبلہ،کعبہ مشرفہ اور دنیا کی سب سے پہلی مسجد کی زیارت کا موقع میسر آتا ہے ۔
حرمین کی زیارت کی خاطر عموما لوگ کافی تگ و دو کے بعد رقم جمع کرتے ہیں اور اس کی زیارت سے آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے ہیں۔

حج وعمرہ کا سبب چونکہ کعبہ کی زیارت ہے اسی لئے یہ عمر میں ایک ہی بار استظاعت کی شرط کے ساتھ واجب ہے ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج وعمرہ کی بڑی فضیلت بتائی ہے :عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ، وَالذَّهَبِ، وَالفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ المَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الجَنَّةُ»(سنن الترمذي:810، سنن النسائي :2631)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو ادا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو مٹا دیتی ہے اور حج مبرور كا بدلہ صرف جنت ہے‘‘۔
سعودی حکومت کی روایت رہی ہے کہ ہر سال دنیا بھر سے مختلف لوگوں کو شاہی خرچ پہ حج کی سعادت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ان کے لئے تمام تر وسائل اور سہولیات مہیا کرتی ہے ۔اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سال رواں ۲۰۲۴ عیسوی کے لئے خادم حرمین شریفین ملک سلمان بن عبدالعزیز حفظہ اللہ نے یہ فرمان جاری کیا ہے کہ شاہی خرچ پہ دنیا بھر سے مختلف میدان سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار ممتاز شخصیات کو عمرہ کی دعوت دی جائے ۔
یہ دعوت گھر سے نکلنے سے لیکر مطلوبہ عمل کی انجام دہی کے بعد گھر لوٹنے تک ہر قسم کی سہولیات سےلیس ہوتی ہے آنے جانے کی ٹکٹ ،ایر پورٹ پہ شاندار استقبال، ٹھہرنے کے لئے اعلی قسم کے ہوٹل کی فراہمی، نہایت ہی اطمینان وسکون کے ساتھ سیکورٹی عملہ کی نگرانی میں عمرہ و حج کی ادائیگی ، تحفہ تحائف خریدنےکے لئے کچھ مخصوص رقم ، بڑی بڑی شخصیات سے ملاقات و زیارت بڑے مراکز کاس وزٹ وغیرہ شڈول میں شامل ہوتاہے اور واپسی میں بھی بڑے ہی عزت واحترام کے ساتھ ایرپورٹ تک ڈراپ کیا جاتا ہے ۔
مذکورہ پروگرام کی تنفیذ کی ذمہ داری وزارت برائے مذہبی امور کے سر ہوتی ہے ۔ اور مختلف وزارات کے تعاون سے شاہی مہمانوں کے ساتھ شاہانہ معاملہ کیا جاتاہے ۔
اس پروگرام کی تنفیذ ہو چکی ہے کئی سو افراد اس پروگرام سے مستفید ہوچکے ہیں اور آنے والے دنوں میں ہوں گے ۔
اس قسم کے پروگرام سے واضح ہے کہ سعودى حكومت اسلام اور مسلمانوں كى خدمت میں سب سے آگے ہے ، ان کی خدمت كے جذبہ سے سرشار ہے، اخوت وبھائى چارگى كو مستحكم كرنے کے لئے مختلف قسم سے کوشش کرتی ہے، مختلف ميدان ميں كام كرنے والى نمائندہ شخصيات کے مابين روابط مضبوط کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی راہ میں سنجیدہ ہے۔
اس مبارک موقع پر شاہ سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ ،ولی عہد محمد بن سلمان ایدہ اللہ اور پوری وزارت برائے اسلامی امور بالخصوص وزیر برائے اسلامی امور ڈاکٹرعبد اللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ مبارک باد کے لائق ہیں، اللہ پاک ان سب کو دنیا وآخرت میں اس کا بہتر بدلہ عنایت کرے اور سعودی حکومت کو نظر بد سے بچائے،اور اس سے تا قیامت حرمین کی خدمت لیتا رہے آمین۔
