بیدر۔ 11؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): کل تک اخبارات میں آنے والے مضامین اور کتابوں میں شائع ہونے والی معلومات پراعتراضات ہوتے تھے لیکن جب سے دنیاانٹرنیٹ سے جڑی ہے اور ہر چیز ڈیجیٹل ہوتی جارہی ہے ایسے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم ، سوشیل میڈیا کافیس بک، یوٹیوب ، انسٹاگرام اور ایکس پر نظر رکھنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔کیوں بڑھ گئی ہے ۔ اس حوالے سے کہناہے کہ EXPLORE YRSنامی ایک یوٹیوب چینل ہے۔ اس چینل کے 5.43لاکھ سبسکرائبر ہیں۔ یہ چینل ہندی زبان میں مختلف شہروں سے متعلق معلومات فراہم کرتاہے۔ اس نے Stony Land in Karnataka Gulbarga Smart City کے نام سے 14جون 2023کو گلبرگہ شہر سے متعلق ایک معلوماتی ویڈیواپلوڈ کی ہے۔ جس میں اس نے بہت سی باتیں درست بتائی ہیں لیکن جب لسانی انفارمیشن دینے کی بات آتی ہے تو یہ ویڈیو’اردو‘ زبان کوبھول جاتی ہے جب کہ گلبرگہ میں اردو بولنے والوں کی کثرت ہے۔

گلبرگہ جنوبی ہند کے اردوادب کا سب سے مقبول شہر ہے ۔اسی طرح یہاں کی اردو صحافت علاقہ کلیان کرناٹک ہی نہیں پورے کرناٹک میں اپناوقار رکھتی ہے۔ یہاں سے تین اردو اخبارات نکلتے ہیں جن میں سے دواردو اخبارات قومی اخبارات کی برابری کرتے نظر آتے ہیں۔ غلط یا ادھوری معلومات دینے والی ویڈیوز پر جب تک اعتراض نہیں کیاجائے گا بات قبول نہیں کی جائے گی ۔ جو کوئی اس ویڈیو کو دیکھیں اگر انہیں لگے کہ گلبرگہ میں اردو زبان بولنے والوں کاذکر نہیں کیا جارہا ہے تو اس پر اپنا اعتراض کمنٹ باکس میں ٹائپ کریں یا کوئی اور قدم بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔

نجی طورپر مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ کلبرگی میں بولے جانے والی زبانوں میں اردو کا ذکر نہ کرتے ہوئے کونکنی کاذکر اس یوٹیوب چینل نے کیاہے۔ شاید اڈپی ہوٹلوں کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہوگا لیکن کونکنی کا وجود گلبرگہ میں نہیں کے برابر بھی نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے