طالب دعا: انصر نیپالی

بیٹیاں سچ میں وفاؤں کی طرح ہوتی ہیں
لب پہ معصوم دعاؤں کی طرح ہوتی ہیں

ظلمتِ شب میں ستاروں کی طرح ہوتی ہیں
صحن گلشن میں غزالوں کی طرح ہوتی ہیں

گھر کے آنگن میں چنبیلی کی طرح کھلتی ہیں
برگ ریزاں میں بہاروں کی طرح ہوتی ہیں

باپ کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں سایہ بن کر
دھوپ کی گرمی میں شاخوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی ہیں دنیا والو !
ہر گھڑی رب کے سہاروں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں آتش دوزخ سے بچائنگی ہمیں
زہدوتقوی میں مثالوں کی طرح ہوتی ہیں

ایک گھر میں تو اداسی کے ببول اگتے ہیں
دوسرے گھر میں گلابوں کی طرح ہوتی ہیں

آہ ! سسرال میں عزت نہیں ملتی ان کو
بیٹیاں درد کے ماروں کی طرح ہوتی ہیں

یا الہی! تو انہیں صبروقناعت دیدے
موجِ طوفاں میں کناروں کی طرح ہوتی ہیں

جب بھی گھر آئیں کلیجے سے لگا لو انصر
سوزشِ غم میں گھٹاؤں کی طرح ہوتی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے