بیدر۔ 15؍جنوری(صحافتی نوٹ): منوررانا نے اپنی شاعری سے اردو دنیا ہی نہیں بلکہ ہندی دنیا کوبھی متاثر کیا۔ ان کی شاعری روایتی غزل سے ہٹ کرآزاد ہندوستان کے گوناگوں مسائل کی نمائندگی کرنے کے علاوہ معاشرتی اقدار کی علمبردار رہی ہے۔منوررانا 14اور 15؍جنوری کی درمیانی شب لکھنؤ کے سنجے گاندھی اسپتال میں انتقال کرگئے۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔

منوررانا کاانتقال دراصل ایک ایسے عہد کا خاتمہ ہے جو ہند کے طول وعرض میں ہونے والے فسادات ، نکسل ازم، ایمرجنسی ،روٹی کپڑا اور مکان کامطالبہ اور بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعات پر مشتمل رہاہے۔معروف ادیب ، نقاد، تبصرہ نگار اور صحافی جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے یہ باتیں کہیں۔ انھوں نے اپنے تازہ صحافتی بیان میں کہاکہ منوررانا کی شاعری ’ماں‘ تک محدود ہر گز بھی نہیں ہے۔ ان کی شاعری کے موضوعات پھیلے ہوئے ہیں اور تنوع سے عبارت ہیں۔خود انھوں نے وقت کی حکومتوں سے ٹکر لینے میں کسی لیت ولعل سے کام نہیں لیا۔ ان کے بیانات میں بھی سچائی کی آواز صاف طورپر محسوس کی جاسکتی تھی۔وہ ایک ایسے بے باک شاعر رہے جنہیں سیاست کی پینترے بازی سے خوب واقفیت تھی۔

میں ان کی وفات پر اپنے گہرے رنج وغم کااظہار کرتاہوں۔ان کے بچوں اور لواحقین کے لئے صبرجمیل کی دعاکرتے ہوئے خود منوررانا کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ منور رانا کی خطاؤں کو بخش دے ۔ ان کی شاعری کو ان کے لئے صدقۂ جاریہ بنادے، جنت الفردوس عطاکرے اور ان کانعم البدل اردو شاعری کو دے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے