طلبہ کا تربیتی اجتماع منعقد شدہ مسجد قباء بیدر میں اقبال الدین انجینئر کا خطاب
بیدر۔ 17؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): تدبرمعرفت کاخزانہ ہے۔ تدبر کا معیار یہ ہے کہ اپنے لئے نصیحت حاصل کریں۔ کوئی بڑاکام وہی شخص کرسکتاہے ، جو یقین میں جیتاہو۔ قرآن میں ہے کہ مومنین تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مومن ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔ حدیث قدسی ہے کہ اللہ فرماتاہے ’’میری محبت ان لوگوں کے لئے واجب ہوگئی جو میرے لئے آپس میں محبت کریں ‘‘ ہمیں چاہیے کہ اپنے نفس وذات کو ان لوگوں کے ساتھ وابستہ رکھیں جن کی زندگیوں میں خدا کی یاد رچی بسی ہو۔ انسان کی اصلاح کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنی فطرت سے نہ ہٹے۔
ان خیالات کا اظہاراقبال الدین انجینئر نے اپنے خطاب کے دور ان کیا۔ انھوں نے آگے بتایاکہ جو شخص دنیاکے معاملے میں بقدرِ ضرورت پر اکتفا کرے گا، وہی آخرت کے تقاضوں کوپورا کرنے میں کامیاب ہوگا۔ آدمی کوبغیر مشکل کے زندگی گذارنے کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کے دئے ہوئے عطیات کو یادکرے۔ معراج النبیﷺ کاواقعہ بھی ہمیں معلوم ہونا چاہیے۔ تب ہی ہمارایقین پختہ ہوتاہے۔ اس رات آنحضرتﷺ کو مسجد حرام سے لے کر بیت المقدس تک براق پر سوا رہوکر حضرت جبرئیل کی رفاقت میں آپﷺ کو جسمانی سیرکرائی گئی ۔ پھراسی رات بیت المقدس سے آسمان دنیا کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے آدم ؑ سے ملاقات کی۔ دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ ؑ وعیسیٰ ؑ علیہماالسلام کو دیکھا۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ، چوتھے آسمان پر ادریسؑ، پانچویں آسمان پر ہارون ؑ اور چھٹاآسمان پر موسیٰ ؑ اور ساتویں آسمان پر ابراھیم علیہ السلام کودیکھا۔ پھر آپﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ اور بیت المعمورتک اٹھالیاگیا۔ اور اس کے بعد آپ کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایاگیا۔ آپ اللہ تعالیٰ کے اتنے قریب ہوگئے حتی ٰ کہ دوکمان یا اس سے بھی کم کافرق رہ گیا۔ پھر اللہ نے آپ کی طرف جو چاہا وحی بھیجی۔ آپ ﷺ پرپانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ آپ واپس آرہے تھے تو ندا کرنے والے نے نداء کی اور کہاکہ اللہ نے اپنافریضہ انجام دے دیااور اپنے بندوں سے تخفیف کردی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کانوردیکھا۔ اور آپﷺ نے فرمایاہیکہ مومن کی معراج نماز ہے۔ تب ہی ہم دنیاوآخرت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس بات کی اطلاع خود اقبال الدین انجینئر نے دی ہے۔
