کانگریس کے سینئر قائد بسواراج بڑلا کا مطالبہ
بیدر۔ 23؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): مہاراشٹر، گوا اور کرناٹک کی منتخبہ حکومتوں کوگراکر بی جے پی نے عوامی رائے کامذاق اڑایاہے۔ ایم ایل اے خرید لینا اس پارٹی کے بائیں ہاتھ کاکھیل ہے۔ ابھی بھی دھمکی دی گئی ہے کہ پارلیمانی انتخابات ختم ہوتے ہی کرناٹک کی کانگریس حکومت گرادی جائے گی۔ ایسی غیرجمہوری پارٹی اور منتخبہ حکومتوں کوگرانے کی دھمکی دینے والی پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے تعلیم یافتہ اور غیرمتنازعہ امیدواروں کی ضرورت ہے۔میںقریب پانچ دہائیوں سے کانگریس میں ہوں، تعلیم یافتہ اور غیرمتنازعہ لیڈر ہوں ۔ میں نے ضلع میں پارٹی قیادت اور وزراء سے ملاقات کی ہے تاکہ مجھے بیدر سے کانگریس پارٹی ٹکٹ دے کر امیدوار بنائے۔
اپنی جانب سے طلب کردہ اردو صحافیوں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کانگریس پارٹی کے سینئر قائداور سابق ضلع صدر بیدر کانگریس مسٹر بسواراج بڑلا نے یہ باتیں کہیں۔ موصوف نے مرکزکی بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ہرشخص کو 15لاکھ روپئے ، ہر سال 2لاکھ افراد کو روزگار، کالادھن کی واپسی اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کرکے بی جے پی اقتدار میں آئی تھی۔ آج 9سال بعد بھی کوئی وعدہ پور انہیں کیاگیا۔اس طرح بھارت کی بھولی بھالی عوام سے مرکزی حکومت نے دھوکا کیاہے۔ ایسی حکومت کواقتدار سے نکال باہر کرنا عوام کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ پنڈت جواہر لعل نہرو، لعل بہادر شاستری ، اندراگاندھی ، راجیو گاندھی ، پی وی نرسمہاراؤ اور من موہن سنگھ جیسے وزرائے اعظم کی جانب سے عوام کے لئے کمائی گئی قومی جائیدادوں کوموجودہ مرکزی حکومت وزیراعظم مودی کی قیادت میں فروخت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ منگلور ، ممبئی ، احمد آباد اور وشاکھاپٹنم کے ہوائی اڈوں کومودی حکومت نے فروخت کردیاہے۔
ائر انڈیاٹاٹا کو فروخت کیاگیاہے۔ اڈانی کو 8-9بندرگاہیں کوڑیوں کے مول بیچ دی گئیں۔ایک وشال اور مضبوط بھارت کی سمپتی ، کارخانہ ، ائرپورٹ اور بندرگاہ کو فروخت کردیاگیاہے۔ اسی طرح صنعت کاروں اور دولت مندوں کا12لاکھ 56ہزار کروڑ کا قرض وزیراعظم مودی نے معاف کردیاہے۔اتنی بڑی رقم کی معافی بھارت کے اتہاس میں کبھی نہیں ہوئی۔
مسٹر بڑلا نے کہاکہ وہ بیدر سے پارلیمانی ٹکٹ کے خواہشمند ہیں۔میں پوسٹ گریجویٹ اور سابق لیکچرر ہیں۔ پارٹی کے وفاداراور ایک غیرمتنازعہ شخص ہیں۔ خاندانی سیاست کا بھی کوئی مسئلہ میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں اپنے خاندان کاتنہا شخص ہوں جو سیاست میں 47سال سے ہوں اور ایک ہی پارٹی سے وابستہ رہاہوں۔ انھوں نے بیدرویژن کے نام سے دس نکاتی فارمولہ پیش کیا۔ موصوف نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ موجودہ رکن پارلیمان بیدر اور مرکزی وزیر بھگونت کھوبا سیکولر شخص نہیں ہیں ۔ کل کا ان کا بیان بتاتا ہے کہ وہ فرقہ پرستی کوبڑھاوادینے میں لگے ہوئے ہیں۔ شانتی کو برقرار رکھناہی عوامی نمائندے کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ سوشیل فیبرک کو ختم کرنے سے سوسائٹی میں پھرکچھ باقی نہیں رہتا۔ انھوں نے اپنے آپ کو نیاچہراور تجربہ کار سیاست دان بتایا۔ اور پارٹی سے انہیں ٹکٹ دینے کامطالبہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ وہ ضلع کانگریس پارٹی کے تمام قائدین ، وزراء ، اوردیگر اہم قا ئدین سے مل چکے ہیں۔ اور ان سے اپنے لئے ٹکٹ کے ضمن میں بات کی ہے۔
پریس کانفرنس کے آخر میں موصوف نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی پر الزام لگایاکہ وزیراعظم نے آج تک پریس سے بات نہیں کی۔جب کہ پریس جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ اور اگر کوئی ایک ستون بھی متاثر ہوتو جمہوریت متاثرہوجاتی ہے۔ لہٰذا جمہوریت کی بقا کے لئے کانگریس پارٹی کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔
