مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں میں منعقد سالانہ تعلیمی و ثقافتی مظاہرہ میں دکھائے انجمن الاصلاح کے طلبہ نے اپنے چھپے علمی جوہر 

سمریاواں، سنت کبیر نگر (رپورٹ محمد رضوان ندوی) : موجودہ دور کے مدرسوں کا تعلق صفہ نبوی سے ہے، دور نبوی میں کچھ طلبہ وہی قیام کرتے تھے اور کچھ گھر سے آتے جاتے تھے، ہمارے مدارس بھی اسی طرز پر قائم ہیں،

تمام لوگ قرآن سے جڑیں ،علم سے جڑیں اور بچوں کو جاھل نہ رکھیں ،عمر دراز لوگ بھی قرآن کو سیکھیں، صحابہ کرام نے سیکھنے میں شرم نہیں کیا تو آپ کیوں شرم کرتے ہیں؟ اپنے آپ کو تعلیم کیلئے فارغ کریں ،اچھی نیت سے ہر اچھا کام اللہ کے یہاں مقبول ہو جاتا ہے، ان خیالات کا اظہار شیخ التفسیر دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ مولانا سید صہیب طاہر حسینی ندوی نے مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں میں منعقد عظیم الشان اجلاس عام میں حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے کیا.

انھوں نے خاص طور پر مدارس اور اہل مدراس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں طلبہ کی محنت کی قدر کرنی چاہئے،اور علماء وحفاظ کو احترام کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے، یہ پروگرام سال میں ایک مرتبہ پیش کیا جاتا ہے، پورے سال طلبہ کوشش کرتے ہیں، مسابقات ہوتے ہیں، جس کا نمونہ یہاں پیش کیا جارہا ہے،

یہ مظاہرے اور مسابقات کیوں ہوتے ہیں ان کا مقصد کیا ہے؟ ہمارے علم میں یہ ہونا چاہئے کہ یہ اللہ کی سنت ہیں، سب سے پہلا مسابقہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام اور فرشتوں کے درمیان کروایا جو علم کی بنیاد پر ہوا اللہ نے حضرت آدم کو تمام چیزوں کا علم سکھا دیا پھر امتحان لیا گیا حضرت آدم اس میں فرشتوں سے فائق ہوگئے اور پھر اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کی سجدہ کرو اس پروگرام کی نسبت وہاں سے ہے، یہ مبارک نسبت ہے،

مولانا نے اساتذہ کو مزید مبارک باد دیتے ہوئے کہا وہ اساتذہ جو شب وروز طلبہ کیلئے فکر مند رہتے ہیں محنت کرتے ہیں اور طلبہ کو اسٹیج پر پروگرام پیش کرنے کے لائق بناتے ہیں اور ان کی تعلیم و ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں اور فکر مند رہتے ہیں ، ان پر خوب محنت کرتے ہیں، اور اس کے لئے پورے سال کوشش کرتے ہیں وہ اللہ کے یہاں بہت مقبول ہیں.

پروگرام کی صدارت ناظر وانچارج شعبہ ملحقہ مدارس دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ مولانا کفیل احمد ندوی اور نظامت مولانا غفران احمد ندوی صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں و ناظم انجمن الاصلاح محمد عاصم بستوی نے کی، مدرسہ کے مہتمم مولانا منیر احمد ندوی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، مہمان خصوصی مولانا مقبول احمد قاسمی استاذ دار العلوم اسلامیہ بستی کے دعائیہ کلمات پر ثقافتی اجلاس کا اختتام ہوا.

اس سالانہ تعلیمی وثقافتی مظاہرہ میں دو درجن سے زائد طلبہ نے اجتماعی قرات، حمد ،نعت ،نظم اور ولولہ انگیز تقریر ،تمثیلی مشاعرہ اور حالات حاضرہ کے تناظر میں مفید اصلاحی مکالمات پیش کرکے خوب داد و تحسین حاصل کی، مکالمہ وراثت کی شرعی حیثیت، والدین کے حقوق ،موبائل رحمت یا زحمت ،عربی زبان کی اہمیت وافادیت کو بہت پسند کیا گیا،

اس موقع پر شاہد علی ندوی ، قاری زین العابدین ،مولانا شفیق الرحمن قاسمی ، عبد الماجد ندوی، نثار احمد ندوی ، اعجاز منیر ،مولانا عبد اللہ قاسمی ، شعیب احمد ندوی ،ڈاکٹر اختر حسین قاسمی، حاجی سمیع اللہ ،مولانا فضیل احمد ،محمد احمد ضلع پنچایت ممبر ،مولانا زین العابدین ندوی ، ڈاکٹر نسیم احمد قاسمی ،عبد العظیم ، فیروز احمد ندوی ، ڈاکٹر محمود احمد قاسمی ،مولانا ابوالکلام ندوی ، مولانا قمر الزماں ندوی، ماسٹر سہیل احمد علیگ ،امتیاز احمد امرڈوبھا ،مولانا نفیس احمد ،حافظ عبد السمیع ، قاری اعجاز احمد، سید علی فیروز احمد صدف کلاتھ ہاؤس وغیرہ خاص طور پر موجود رہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے