غزل

فروری 13, 2024

نسیم زاہد ( کویت )

 

جو بھی ہے عشق میں لٹا دوں گا

سوئی تقدیر کو جگا دوں گا

میرے پاس آؤ، مجھ سے بات کرو

زندگی کا تمھیں پتہ دوں گا

میری افسردگی پہ غم کیسا؟

مسکرا دو تو مسکرا دوں گا

پیش کرکے حسین گلدستہ

اک جفاکار کو سزا دوں گا

پھول بھی جاں نواز ہوتے ہیں

مل گیا چاند تو بتا دوں گا

مجھ کو آتا ہے یہ ہنر زاہد !

سنگ کو آئنہ بنا دوں گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے