- منور رانا نے آسان لب و لہجہ میں عوام کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔
- اترپردیش اردو اکادمی کے تحت سنت کبیر نگر میں عظیم الشان سیمنار و مشاعرہ کا انعقاد
سنت کبیر نگر (پریس ریلیز): منور رانا کی شاعری ہر خاص و عام کی شاعری ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کو مذہبی فریم میں نہیں جَڑا بلکہ آسان لب و لہجہ میں عوام کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا محور بنایا جسے ان کے اشعار محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انسانی قدروں پر مکمل یقین منور رانا کی ایک بڑی صفت تھی۔ ان کے سینے میں ایک ایسا دِل تھا جو اس ملک کے لئے، اس ملک کی مٹی کے لئے، ماں کے لئے، غریبوں کے لئے، ٹرین کے ڈبوں میں جھاڑو لگانے والے بچوں کے لئے یکساں طور پر دھڑکتا تھا۔ وہ اس ملک کے روایتی بھائی چارے، ہندو مسلم یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار تھے“۔ ان خیالات کا اظہار اترپردیش اردو کادمی کے تحت عالمی شہرت یافتہ شاعر و ادیب منور رانا کی یاد میں منعقد سیمینار و مشاعرہ میں مقررین و مقالہ نگاروں نے کیا۔ پروگرام کا انعقاد نجب النساء میموریل ٹرسٹ لکھنؤ کی کنوینرشپ میں محمد حنیف گرلس انٹرکالج، برگدواں کلاں، ضلع سنت کبیر نگر میں ہوا جس کی صدارت شاعر و ادیب ارشد کبیری نے کی جبکہ بطور مہمان خصوصی بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر حسن کاظمی نے شرکت کی۔ شگیل گیاوی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ ڈاکٹر عرفان احمد، ڈاکٹر شجاع الحق، ڈاکٹر سید محمد صبیح، عبدالکریم ارریاوی، ضرغام الدین خاں، ڈاکٹر اطہر حسین، ڈاکٹر سعید اختر، ضرغام الدین، اشرف فردوسی وغیرہ نے منور رانا کی زندگی و شاعری کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ صدر تقریب ارشد کبیری نے کہا کہ منور رانا جیسے اردو کے عظیم شاعر و ادیب پر اس دوردراز کے ضلع میں یوپی اردو اکادمی نے پروگرام کرکے اردو کے اہم خدمت انجام دی ہے، ہم اس پورے علاقہ کی طرف سے اردو اکادمی کے شکر گزار ہیں۔ اس کے بعد مشاعرہ کا آغاز ہواجس میں شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا:
منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:
کیازمانہ ہے کبھی یوں بھی سزا دیتا ہے
مرادشمن مجھے جینے کی دعا دیتا ہے
حسن کاظمی
تم نے کیسی شراب چھانی ہے
سارا ماحول ارغوانی ہے
شکیل گیاوی
مسلسل چلتے رہنا زندہ رہنے کی علامت ہے
یہی پیغام دیتا ہے ہمیں بہتا ہوا پانی
سلیم تابش
جس کے دم سے تھی منور شاعری اسٹیج کی
وہ منور رانا اب ہم میں نہیں نغمہ کناں
اشرف فردوسی
تو تشدد کا ہے حامی، قاتل و سفاک تو
مشرق و مغرب نے رکھا تجھ پہ یہ الزام ہے
ارشد کبیری
لوگ چند کوڑی میں بیچتے ہیں خودداری
آدمی نہیں ملتا آدمی کے پیکر میں
سلمان کبیر نگری
مت کرو نفرتوں کی تم باتیں
ورنہ یہ ملک ٹوٹ جائے گا
ڈاکٹر عنبر بستوی
میں تنِ تنہا تھا ظالم کے خلاف
عقل والوں نے مری تنقید کی
دیدار بستوی
ماں کو میں رحمت خدا کی کہتا ہوں
ماں کو ماں تو ساری دنیا کہتی ہے
ریاض ساحر
مجھ کو ٹکڑوں پہ پال دے مولیٰ
مگر رزقِ حلال دے مولیٰ
چھیدی ورما
دوا کا درد، درد کا دوا ہونا
ہم نے دیکھا ہے پتھروں کا خدا ہونا
نور احمد نور
اس موقع پر محمد حنیف گرلس انٹرکالج کے منیجر مسیح الدین خاں، نائب پرنسپل رضوان احمد کو ان کی تعلیمی خدمات کے لئے شیلڈ اور شال پیش کرکے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس سے قبل نجب النساء میموریل ٹرسٹ کے صدر محمد راشد خان نے موضوع کا تعارف کرایا اور اردو کے معروف شاعر منور رانا کی یاد میں اتنا شاندار سیمینار و مشاعرہ کرانے کے لئے اترپردیش اردو کادمی کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے خاص طور سے ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ لسانیات جتیندر کمار، اکادمی کے سکریٹری ایس ایم عادل حسن، سابق سکریٹری ایس رضوان اور جملہ اراکین اکادمی کا شکریہ ادا کیا جو اکادمی کو فعال بنانے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں اور جن کی توجہ سے اس پروگرام کا انعقاد ہو رہا ہے۔ پروگرام کے کوآرڈینیٹر سلمان کبیرنگری نے خیرمقدمی کلمات کہے۔ سیمینار و مشاعرہ میں بڑی تعداد میں لوگ آخر تک موجود رہے۔
