ڈومریاگنج(سدھارتھ نگر): مورخہ ۱۴ فروری ۲۰۲۴ بروز بدھ کو الجامعۃ الاسلامیہ قاسم العلوم ریواں قصبہ موتی گنج بھارت بھاری نگر پنچایت تحصیل ڈومریاگنج میں طلباء کی تنظیم انجمن ندوۃ الاصلاح کے زیر انتظام ایک عظیم الشان تقریب سالانہ انجمن کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت وکیل الجامعۃ فضیلۃ الشیخ سید محمد احمد قاسمی ریاضی صوفی حفظہ اللہ نے کیا اور نظامت سید عرفان الحق ہاشمی (Hashmi King) نے کیا۔ بچوں کا پروگرام صبح ۹ بجے سے شام ساڑھے ۳ بجے تک تین نشستوں پر مشتمل تھا۔
پروگرام کا آغاز عزیزم حافظ محمد رئیس صدیقی سلمہ کی تلاوت قران حکیم سے ہوا، حمد باری تعالیٰ عزیزم حبیب الرحمن سلمہ نے پیش کیا اور نعت عزیزم محمد توفیق سلمہ نے مترنم آواز میں سنایا۔ اس کے بعد الجامعۃ الاسلامیہ قاسم العلوم کے تقریباً ۳۰ بچوں نے اردو انگریزی ہندی میں تقاریر پیش کیں۔ جن میں سے اردو زبان میں حافظ محمد رئیس و حافظ مزمل نے قرآن کریم کی تلاوت کی فضیلت و وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین عناوین پر تقاریر پیش کیں، نیز محمد عمران و محمد ریان نے انگریزی و ہندی زبان میں Foundation of Islam 5th जहेज़ एक कुप्रथा عناوین پر تقاریر پیش کیں ۔
بچوں کے سالانہ انجمن کی تقریب کی دوسری نشست میں صفا شریعت کالج کے تجربہ کار استاذ فضیلۃ الشیخ عبدالمبین سلفی نے تاثراتی کلمات میں بچوں کو قابل عمل باتیں بتائیں معاً بعد الجامعۃ الاسلامیہ قاسم العلوم ریواں کے قابل استاذ و کہنہ مشق شاعر فضیلۃ الشیخ دکتور عبدالرؤوف حمیدی نے ایک بہترین حمد پیش کیا جسے سن کر سامعین کا دل باغ باغ ہوگیا۔
الجامعۃ الاسلامیہ قاسم العلوم ریواں کی تیسری اور آخری نشست کا آغاز ضیغم اسلام مقرر شعلہ بیاں فضیلۃ الشیخ مولانا سید عبدالاول رحمہ اللہ کے نواسے فاضل نوجوان داعی دین و مبلغ اسلام فضیلۃ الشیخ سید عزیر احمد ہاشمی قاسمی (Qasmi King) نے ایک بہترین نظم سے کیا۔
الجامعۃ الاسلامیہ قاسم العلوم ریواں سے سن ٢٠٠٥ کے فارغ التحصیل سید عرفان الحق ہاشمی (Hashmi King) نے جامعہ کی ایک مختصر ترین ڈاکومنٹری پیش کی جس کے کچھ اقتباس ملاحظہ فرمالیں بر اعظم ایشیا کے ملک ہندوستان کے صوبہ اترپردیش مشرق کے بستی کمشنری کے ضلع سدھارتھ نگر کے تحصیل ڈومریاگنج کے بھارت بھاری نگر پنچایت موتی گنج چوراہا کے شمال مشرقی جانب ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک تاریخ ساز گاؤں موضع ریواں ہے جہاں پر سال ۱۹۳۹ عیسوی بمطابق ۱۳۶۰ میں جماعت اہل حدیث کے دو بزرگ عالم دین فضیلۃ الشیخ شیخ الاسلام مولانا ممتاز علی رحمہ اللہ و حکیم الاسلام فضیلۃ الشیخ مولانا اقبال حسین رحمہ اللہ نے الجامعۃ الاسلامیہ قاسم العلوم ریواں کے نام سے ایک دینی ادارے کی بنیاد رکھی جو ۸۵ سالوں سے روز افزوں ترقیات کی منازل کو طے کرتے ہوئے آج سن ۲۰۲۴ عیسوی بمطابق ۱۴۴۵ ہجری تک رواں دواں ہے۔ الجامعۃ الاسلامیہ قاسم العلوم ریواں کے سابق سربراہ اعلیٰ ضیغم اسلام مقرر شعلہ بیاں خطیبِ بے مثال حضرت العلام فضیلۃ الشیخ سید عبدالاول ہاشمی رحمہ اللہ رہے جنہوں نے تاحیات جامعہ میں بخاری شریف کا درس دیا شیخ رحمہ اللہ کے جملہ خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی تھی بغدادی قاعدہ سے لیکر بخاری شریف تک درس دینے کا کامل ملکہ تھا شیخ کے درس میں جو بھی خوش نصیب طالب علم موجود رہا ہو وہ شیخ رحمہ اللہ کے اس صفت سے ضرور واقف ہوگا شیخ رحمہ اللہ کے بیشتر غیر مطبوعہ مسودات آج بھی موجود ہیں جسے جامعہ مالی بحران کے باعث طبع کرانے میں قاصر رہا مگر دو کتابیں تذکرۃ السیدین و تحفہ اقبال شیخ رحمہ اللہ کی تحریر کردہ جامعہ کو طباعت کرانے کا شرف حاصل ہوا جسے پڑھ کر قارئین کو کافی فیض حاصل ہوا۔ شیخ رحمہ اللہ نے ۲۸ جولائی ۲۰۰۹ عیسوی بمطابق ۶ شعبان ۱۴۳۰ ہجری کو اس دارفانی سے دار بقا کی جانب کوچ کیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شیخ کے وفات کے بعد جماعت اہل حدیث کے کبار علماء میں تقوی و پرہیزگاری میں مشہور و معروف شخصیت کے مجسمہ شیخ رحمہ اللہ کے داماد فضیلۃ الشیخ مولانا سید محمد احمد قاسمی ریاضی حفظہ اللہ جنھیں دنیا صوفی صاحب کے نام سے جانتی ہے انھوں نے اپنے ہاتھوں میں الجامعۃ الاسلامیہ قاسم العلوم ریواں کی باگ ڈور سنبھالی اور آج جامعہ کی عمارت ہر قسم سے رنگ و روغن سے مزین و پُرکشش نظر آرہی ہے۔ صوفی صاحب نے جامعہ کو تعلیمی، تربیتی و تعمیری اعتبار سے بہت بلند کیا ہے، ان کی حمایت جامعہ کے شعبہ عربی فارسی و شعبہ ابتدائی مکتب کے ۲۵ اساتذہ کے ساتھ ان کے بیٹے فضیلۃ الشیخ مولانا سید عزیر احمد قاسمی حفظہ اللہ ہمہ وقت کرتے رہتے ہیں۔ اس تقریب میں جامعہ کے شعبہ مکتب کی پانچ طالبات عزیزہ تبسم بانو سلمہا عزیزہ صبیحہ خاتون سلمہا عزیزہ شبانہ خاتون سلمہا عزیزہ ترنم بانو سلمہا عزیزہ منتشاء سلمہا و ایک طالب علم عزیزم محمد عمران سلمہ کو ناظرہ قرآن کریم کے تکمیل پر گرانقدر انعامات سے بھی نوازا گیا۔
جامعہ کے اس سالانہ انجمن میں جن اساتذہ و طلباء و مہمانان نے شرکت کیا ان میں فضیلۃ الشیخ محمد شفیق اثری حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ ابو طالب فیضی حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ علیم اللہ قاسمی حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ سید علی قاسمی حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ عبدالکریم قاسمی حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ صادق علی قاسمی حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ حافظ ابو طلحہ قاسمی حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ حافظ افضال احمد قاسمی حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ حافظ عمران قاسمی حفظہ اللہ فضیلۃ الشیخ عبدالماجد صدیقی حفظہ اللہ جناب ماسٹر شمشاد صاحب ان کے علاوہ عزیزم محمد فیاض سلمہ عزیزم سرتاج عالم سلمہ عزیزم محمد شہنواز سلمہ عزیزم محمد عمیر سلمہ عزیزم حبیب الرحمن سلمہ عزیزم محمد عاطف سلمہ عزیزم عبدالرقیب سلمہ عزیزم عبدالرزاق سلمہ عزیزم محمد ثاقب سلمہ عزیزم محمد مستقیم سلمہ عزیزم محمد جنید سلمہ عزیزم محمد انس سلمہ عزیزم عبدالمقیم سلمہ عزیزم محمد شہباز سلمہ عزیزم محمد ریان سلمہ عزیزم محمد عاشق سلمہ عزیزم محمد افضل سلمہ عزیزم محمد شکیل سلمہ عزیزم محمد ساحل سلمہ عزیزم محمد شعیب سلمہ عزیزم سمیع اللہ سلمہ عزیزم عبدالمقیم سلمہ عزیزم محمد عمران کا نام شامل ہے، اس کے علاوہ قرب وجوار کی دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
