• علماء کی وراثت میں صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ علم نبوی کی ضرورت ہے۔
  • فتنے آتے رہیں گے اور علم نبوت کا کام چلتا رہےگا۔
  • جامعہ ہتھوڑا باندہ کے شیخ الحدیث مفتی عبیداللہ اسعدی کا خطاب

مہراج گنج(اتر پردیش): جامعہ عربیہ صادقیہ مہراج گنج کے دار القرآن کے وسیع ہال میں تحفظ سنت تربیتی نشست کا انعقاد ہوا۔ ادارہ کے ناظم مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی کی صدارت اور صدر المدرسین مولانا شبیر احمد قاسمی کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ نشست کے مہمان خصوصی جامعہ ہتھوڑا باندہ کے شیخ الحدیث مفتی عبیداللہ اسعدی ہے۔ علماء کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر آپ نے علم حاصل کرلیا اور مفتی ہوگئے، اب اگر افتاء سے منسلک نہیں ہیں تو وہ مفتی ناکافی ہے، اسی طرح جیسے اگر کوئی ڈاکٹر ہے اور ڈاکٹری کے پیشہ کے علاوہ کوئی اور پیشہ اختیار کرلیا ہے تو اس کی ڈاکٹری معتبر نہیں۔ علماء کی وراثت میں صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ علم نبوی کی ضرورت ہے اور پھر اس کی گہرائی کے لئے گہرے علم کی ضرورت ہے۔ عالم حکمت سے لبریز ہوتا ہے۔ آج ہم فتنوں سے گھرے ہیں، ہمارے رسول بھی فتنوں سے گھرے ہوئے تھے ان کے زمانے میں بھی نبوت کا دعویٰ کردیا گیا، مسیلمہ کذاب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مجھے بھی علم نبوت میں شامل کر لیجیے۔ فتنے آتے رہیں گے اور علم نبوت کا کام چلتا رہےگا، بغیر پڑھے بغیر تحقیق کے کسی پر نکتہ چینی سے پرہیز کیجئے۔ سنی سنائی بات قابل عمل نہیں ہوا کرتے، مسئلوں پر بات کیجئے۔ کسی جماعت، کسی شخص پر تنقید سے پرہیز کیجئے۔

اس کے بعد جامعہ کے ناظم مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی صدر جمعیت علماء گورکھپور اور مولانا شبیر احمد قاسمی نے مولانا عبید اللہ اسعدی کو قاری صدیق ایوارڈ اور مولانا محمد مسعود احمد قاسمی کو ابرار الحق ایوارڈ پیش کرکے دعائیں حاصل کیں۔ اس کے بعد سنت کبیر نگر کے مولانا مسعود احمد قاسمی نے پیمانہ عشق پر گفتگو کرتے ہوئیے بتایا کہ عشق رسول بھی دین ہے، حب اہل بیت بھی دین ہے۔ عشق رسول کا پیمانہ علم نبوت ہے، عشق رسول کا پیمانہ ما انا علیہ و اصحابی جو میرے طریقہ پر ہوگا اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگا، وہ ہے پیمانہ عشق رسول۔

پروگرام میں علاقہ کے علماء اور بہت سارے احباب شریک رہے، جن میں مولانا اشفاق ندوی، ابن الحسن، مولانا سعید قاسمی، مولانا صدر الدین، حافظ عبد المعید سنت کبیر نگر، حافظ رضواں، مولانا سراج، مولانا کلیم اللہ وغیرہ خاص طور پر موجود رہے۔

مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی کی دعاؤں پر مجلس کا اختتام ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے