انصر نیپالی
جو نازش حاکم دوراں تھے وہ دور خلافت بھول گئے
جو علم وعمل کے داعی تھے وہ راہ ہدایت بھول گئے
جو بدر و حنین کے غازی تھے جو فاتح مشرق ومغرب تھے
جو دین پہ جیتے مرتے تھے وہ شوق شہادت بھول گئے
اشکوں سے وضو جو کرتے تھے جو آہ سحر سے ڈرتے تھے
اللہ سے باتیں کرتے تھے وہ ذوق عبارت بھول گئے
جو حرص و ہوس سے بچ کرکے ہر ایک کی نصرت کرتے تھے
ایثار بھی جن کا شیوہ تھا وہ داد سخاوت بھول گئے
ہے قلب و نظر کی رسوائی ہر شخص یہاں پر سودائی
افسوس ہے منصب کی خاطر تحریک بغاوت بھول گئے
کپڑوں کی نمائش ہوتی ہے چہرے کی بناوٹ ہوتی ہے
یہ کیسا زمانہ آیا ہے وہ حسن شرافت بھول گئے
اس دور میں جھوٹوں کی انصر پہچان بہت ہی مشکل ہے
جو سچ لکھنے کے عادی تھے وہ حرف صداقت بھول گئے
