محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ قلبِ خستہ 
وہ بہت ہی خوبصورت اور سلیقہ مند لڑکی تھی اور میں گھونچو عشق کے انجام سے ڈرتابہت تھا۔ کہیں ٹانگ وانگ ٹوٹ گئی تو تیمورلنگ نہیں معروف علی لنگ نہ کہلاؤں ۔ اسلئے وہ روتی دھوتی چلی گئی۔اس کا دل ٹوٹ چکاتھاجس کاسبب میں تھا۔
دل تو خیر میرابھی ٹوٹاتھالیکن کیااِس دل کی ٹوٹ پھوٹ کو دِکھانے سے وہ جڑ سکتاہے ؟ نہیں نا؟ تودوستو! میں بھی اس پری پیکر کی یاد لئے اپنی زندگی سے لگاہواہوں،اپنے ٹوٹے دل کے ساتھ ،یعنی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کامعروف علی قلب ِ خستہ لئے جی رہاہے۔
دراصل دوستووہ برہمن زادی تھی اور میں مسلمان زادہ اورہم دونوں کے درمیان ایک زمانہ کہ ’’ہندوراشٹر‘‘ کانعرے لگائے گھوم رہاتھا۔ اگر کہیں کچھ ہوگیاتو ٹانگ نہیں بلکہ جان جاسکتی تھی۔
میں اپنی جان تو دے سکتاہوں لیکن اُس پری پیکر کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں ذبح ہوتے ہوئے یاگولی کھاتے ہوئے دیکھ نہیں سکتاتھا لہٰذا بے وفائی قبول کرلی ۔میں نے یہ غلط توکیا لیکن اچھاکیا۔ زندگی میں کبھی مل جائے گی تو بات وات کرلیاکروں گا۔ اس کے چہرے کو باربار دیکھے بغیر۔ کیوں اس کاچہرہ ایساہے کہ چاند بھی دیکھے توتاب نہ لاسکے۔ وہ واقعی خوبصورت تھی۔اور سلیقہ مندی نے اس کی شخصیت میں چارچاند لگارکھے تھے۔
۲۔ غم زدہ باپ
ایک غم زدہ باپ اپنی لڑکی کی کہانی کہتارہا اور میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی سب کچھ سمجھنے کاتاثر دے رہاتھا۔ جب میں نے کہاکہ ’’جو غم قسمت میں ہیں، انہیں ہم سب کوبھگتنا پڑتاہے ‘‘ یہ بات اس غم زدہ باپ کی سمجھ میں نہیں آسکی۔ وہ اپنی لڑکی کی بہترزندگی کی دعاؤں کے لئے گزارش کرتارہا۔ مجھے یقین تھاکہ لڑکی کی زندگی بہتر ہوجائے گی مگر وہ کچھ سننے تیارہی نہیں تھا۔ بہت زیادہ بولنے والے غم زدہ باپ کو سمجھانا مشکل ہوتاہے۔
ایک سال بعد بھی میں اس کو نہیں سمجھاسکاہوں۔ مطلب یہ کہ لڑکی کاغم جاری ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرار عطا کرے۔ آمین
۳۔ مقصدِ زندگی 
’’ہاں صاحب ، کروڑہاروپئے اڑائے جارہے ہیں،کتنی خوشیاں اور مسرتیں حاصل کی جارہی ہیں۔ شادی ہوتو ایسی ‘‘ فیروزبخت کی بات سن کر دلچسپی پیدا ہوئی کہ آخر ہواکیاہے ؟ استفسار کرنے پر پتہ چلاکہ دنیا کے سب سے بڑا دولت مندوں میں سے ایک کے فرزند کی شادی ہونے جارہی ہے اور اس کی ویڈیوکلپس دیکھ دیکھ کر فیروزبخت کا دل للچائے جارہاہے۔
میں نے دھیرے لہجے میں کہا’’شادی ہی سب کچھ نہیں ہوتی ‘‘ فیروزبخت اڑ گیا۔’’یہ کیابات ہوئی کہ شادی ہی سب کچھ نہیں ہوتی ؟ شادی ہی سیتو دنیا پھل پھول رہی ہے ۔ اتنے سارے ہم اور تم شادی ہی کی بدولت یہاں نظر آرہے ہیں ‘‘
میں نے کہا’’تم صحیح کہہ رہے ہو، لیکن شادی ہی سب کچھ ہوتی تو دنیابھرمیں طلاقیں نہ ہوتیں اور دولت مندوں کی شادیوں کو شادی نہیں ایک کنڑاکٹ کہہ سکتے ہیںاور جب وہ ایک دوسرے سے طلاق حاصل کرلیتے ہیں تو بہت کم لوگوں کو اس کاپتہ چلتاہے اور وہ بھی چند افراد کو ۔ جیسی شادی ہوتی ہے ویسیاطلاع پھیل نہیں جاتی کہ فلاں کی طلاق ہوگئی ، وہ ہوایہ ہوا ‘‘
فیروزبخت کومیری باتیں شاید اچھی نہیں لگ رہی تھی ۔ اس نے کہہ بھی دیاکہ’’ شاید آپ اس شادی سے جل رہے ہیں‘‘ میں نے گویاصفائی پیش کرتے ہوئے کہا’’شادی سے کوئی جلن نہیں ہے۔ شادی تو ایک مقدس بندھن ہے مگر جب کاروباری آدمی یااس کاباپ اپنے بچے کی شادی کرتاہے تو وہاں بھی کاروبار کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ میراصرف تم سے اتناکہناہے کہ ز ندگی دولت سے ہٹ کر مقصد پر چلتی ہے ۔ مقصد اگر دولت کمانا ہے تو ایسا مقصد ضائع ہو کررہ جاتاہے اور زندگی معلق ہوکر عبرت بن جاتی ہے‘‘
فیروزبخت نے پوچھا’’پھرمیری زندگی کامقصد کیاہونا چاہیے ؟‘‘
مجھے ہنسی آگئی لیکن میں نے اس کو ضبط کرتے ہوئے فیروزبخت سے کہا’’کل پھر ملتے ہیں، اسی جگہ ، برگر کھائیں گے ، لیموکارس پئیں گے اورتمہاری زندگی کے مقصد کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ کیاہونا چاہیے؟ٹھیک ہے نا؟‘‘
۴۔ یہ سب کیاہے ؟
باطل کی مسلسل کاوشوں کو دیکھ کر میں حیرت زدہ تھا۔ میری قوم سوکر اٹھنے میں صبح کے 11بجادیتی ہے۔ جب میں اپنے طبقہ سے مایوس ہوگیاتو میں بھی سوکر صبح گیارہ بجے اٹھناچاہاتو کوئی غیرمرئی طاقت مجھے فجر کو اٹھاکر ٹھیک 11؍بجے دن سلادیتی ہے۔ یہ سب کیاہے یار ؟
۵۔ مشکل تفتیش 
چھوٹی ذاتیں بڑی تیزی سے مالی ترقی کررہی تھیں۔ جب دنیا کے دس دولت مندوں میں سے ہمارے ملک کے ایک دولت مند نے اپنی بچی کی شادی کروڑوں ڈالر لگاکر کی تو میرے منہ سے نکل گیا۔ پتہ تو کروکہ یہ کون سی ذات سے ہے ؟کسی نے پوچھا’’کیوں ؟‘‘ میں نے کہا’’کیوں کہ وہ ترقی کررہاہے ۔ ضرو ر اس کی ترقی میں اس کے چھوٹی ذات ہونے کاسچ شامل ہوگا‘‘
سچائی تو یہ ہے کہ مجھے گوگل ، اورچیٹ جی پی ٹی سے لے کر مختلف انگریزی کتابوں میں بھی اس کے بارے میں یہ بات نہیں مل سکی کہ اس کی ذات حقیقت میں کون سی ہے؟ جس کے جی میں جو آیااس نے اس کی ذات کے بارے میں لکھ رکھاتھا۔
واقعی سچ کو جاننا اکیسویں صدی میں بھی مشکل ہوچکاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے