نجم باگ
ویسے بھی کمشنر صاحب نےپہلے ہی اعلامیہ جاری کردیا ہےکہ عوام دس بجے کے بعد بلا ضرورت کھلے میں نہ گھو میں کہ امسال گرمی اپنے شباب پر ہے سن اسٹروک کے امکانات بڑھ گۓ ہیں پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال زیادہ کرتے رہیں اب گرتے کو ٹھیلتے کا بہانہ کے مصداق گھر میں ہی فروکش ہیں کہیں کولر کہیں ac کا راج ہے بچوں کے امتحانات ختم ہوچکے ہیں تعطیلات کا دورانیہ ہے سب کے سب آۓ ہوۓ ہیں گھر بھرا ہواہے سب نے اپنے اپنے کمروں میں قبضہ جما رکھا ہے اور میں کٹی پتنگ سا ادھر سے ادھر ڈولتا رہتا ہوں کبھی بازار تو کبھی کنی مارکیٹ تو کبھی یہاں تو کبھی وہاں صبیحہ نے پاوں کو پہیے بنا لیئے ہیں خادمائیں الگ منہ پھلاۓ رہتی ہیں کہ کام بہت بڑھ گیا ہے اطمینان دلایا ہے کہ بونس ملے گا آم کا سیزن ہے مختلف آموں کی عشوہ طرازی چل رہی ہے سمر کیمپ کی ہنگامہ آرائی الگ ہے سب بچے ادھم مچاتے کھاتے لڑتے کھیلتے آٹووں میں اپنے اپنے مقام نکل پڑتے ہیں اور گھر میں یکدم سناٹا چھا جاتا ہے پھر بہوئیں بیٹیاں صفائ میں جٹ جاتی ہیں ایک آدھ گھنٹہ میں گھر سیٹ ہوجاتاہے پھر سب ہال میں بیٹھے گپ شپ درس و موعظت اور حالات پر چنتا جاتے اور جمائیاں لیتے ہوۓ اپنے اپنے کمروں میں کھسک جاتے پر آج کے فون کال نے کچھ متوحش کردیا ہے۔
چھوٹے بھائی نے اطلاع دی کہ ماں کی حالت تشویشناک ہے کھاناپینا بند ہے افراد کو شناخت نہیں کر پا رہی ہیں اٹھنا بیٹھنا محال ہے پانی شربت لیکویڈ فوڈ سب اگل دیتی ہیں ڈاکٹر گھر پر ہی گلوکوز انجیکٹ کر رہا ہے
ایک ہفتہ قبل کے لیئے جب میں ہو آیا تھا تو تب بھی یہی حال تھا اب یہاں پر تو سارا گھر بھرا پڑا ہے میں نے سرسری طور پر کہہ دیا کہ آنے کی کوشش کرونگا چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ کچھ دنوں کی بات ہے اب یہاں سب کو چھوڑ نکنا محال ہے ویسے بھی گھر پر ہی ہیں پچھلی بار بڑی رقم چھوڑ آیا تھا کہ دیکھ بھال کرتے رہیں اب مزید کچھ بھجوانے پر دل آمادہ نہیں ہوا ویسے بھی یہاں خرچ بہت عروج پر ہے دن ہنسی ٹھٹھول اور تفریحات میں رواں تھے کہ اطلاع ملی کہ ماں نے رخت سفر باندھ دیا ہے چھہ گھنٹہ کے طویل سفر بعد گھر پہنچا تو سارا باڑہ رشتہ داروں عزیز واقارب اور ملنے جلنے والوں سے بھرا پڑا تھا ماں نے لمبی عمر پائی تھی میں نے پیشانی پر بوسہ دیا پر آنکھیں خشک تھیں مجھے حیرت تھی کہ پچھلی بار تو خوب رویا تھا پر اب ایسا کیوں
ماں کی علالت کا سلسلہ کافی طویل تھا اور عمر بھی کافی بڑی تھی پر سب کے سب خاموش تھے کہیں دور ہلکی سی سسکی سنائ دیتی پھر وہی سناٹا
تدفین ہوتے ہوتے دس بج گۓ سب رکنے پر اصرار کر رہے تھے پر بیٹیاں اور بہوئیں نکلنا چاہ رہی تھیں کہ چھوٹے بچے وہیں پر ہیں کچھ سے گلے مل کچھ مصافحہ کرکے نکل پڑے کھانا بھی نہیں کھا پایا طبیعت ہی آمادہ نہیں ہوئ راستہ بھر پروجیکٹر چلتا رہا اور فلم رواں رہی
اب سو بھی جاو
وہ آجاۓ تو ملازمہ ہے کھانا دیدے گی تم صبح سے جٹی ہوئ ہو سب کو اکٹھا کر لیا ہے دن بھر ہلکان رہتی ہو
نہیں اس سے ٹھنڈا نہیں کھا یا جاتا
ملازمہ کھانا پروس دے گی اور بغیر برتن اٹھاۓ سرک جاۓ گی برتن تک نہیں ڈھانکے گی
تم کیوں جاگ رہے ہو
تم جاکر سو جاو میں سب نپٹا کر آجاونگی
نہیں مجھے اجالے میں نیند نہیں آتی ویسے بھی تم بن سویا بھی نہیں جاتا ہٹو بھی چھوڑو یہ شرارت بوڑھے ہو رہے ہو
ابھی چار دن باقی ہیں
فکر مت کرو انتظام کردونگی
لیکن تمہارے خالو کو خبر نہیں ہونا چاہیئے ہنگامہ کھڑا کر دینگے
ویسے فیس ہے کتنی
بہت ہے خالہ جان
ٹھیک ہےدیدونگی چاہے کچھ ہوجاۓ
تمہارا مستقبل اہم ہے
یہ کس کے لیئے مٹھائ خرید رہے ہو
اس کے لیئے جس کی بدولت میرا انتخاب ہو پایا سارے اخراجات تو انہوں نے ہی فراہم کیئے سارے کنبہ کو وہی سنبھالتی تھیں ان کے احسان سے ہم کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتے کتنے ہی خاندان ہیں جن کا بار ان کے کندھوں پر ہے
فرید کیا بات ہے تدفین میں بھائ صاحب نظر نہیں آرہے ہیں جی مصروفیت ہے کہہ رہے تھے اطلاع تو دیدی تھی اور پھر مجھ پر رفتہ رفتہ یہ جاں گسل تلخ حقیقت کھلتی گئ کہ کتنے ہی لوگ تھے جو تدفین سے غائب تھے کسی کی کچھ کسی کی کچھ مصروفیت کچھ عذرات تھے اور دل گرفتہ کرنے والی کیفیت یہ تھی کہ یہ سب ان کے کرم فرمائ تلے دبے ہوۓ تھے اب جبکہ سلسلہ تھم گیا تھا سب جم گۓ تھے اور یہ بات سمجھ میں آرہی تھی کہ معاشرہ میں وہی نظریہ افراد با وقار ٹھہرتے ہیں جو راحت رساں اور ثمر آور ہوتے ہیں
محض فریش رہ کر اور غیر راحت رساں بن کر بے قدری اور ذلت و خواری ہی مقدر بنتی جاۓ گی جس کے لیئے ہم شکوہ سنج ہیں پر یہ بات شعور سے اوجھل ہے اور حالات روز بوجھل ہوتے جارہے ہیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے ماتم کناں بنتے جارہے ہیں
