ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی
اس کی عظمت گھٹا دیجئے
کر کے احساں جتا دیجئے
بخشئے یا سزا دیجئے
کوئی تو فیصلہ دیجئے
یہ تردد ہے ذہنی مرض
باہر اب اس سے لا دیجئے
اس کے بن میں مروں گا نہیں
اس کو جاکر بتا دیجئے
مجھ میں بھر دے جو اخلاقیات
وہ سبق اب پڑھا دیجئے
کتنا بنجر ہے  دل آپ کا
باغِ الفت لگا دیجئے
جو نہ بھر پائے بعد آپ کے
وہ جہاں کو خلا دیجئے
لوگ جانیں تو زندہ ہوں میں
مجھ کو ہنسنا سکھا دیجئے
مجھ کو سچ میں سمجھ جو سکے
ایسا اک یار  لا دیجئے
کب تک آغازِ الفت رہے
اس کو اب انتہا دیجئے
توڑ کر رشتہء عاشقی
دل پہ بجلی گرا دیجئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے