کاٹھمانڈو نیپال (11/مارچ 2024):  یقینا ہر بافیض مسلمان گیارہ مہینوں میں ،جس بابرکت مہینے کا شدت کے ساتھ انتظار کرتے ہیں ،اسے ماہ رمضان المبارک کہاجاتا ہے۔جس کا آغاز سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک میں آج 11/مارچ 2024ء سے ہوچکا ہے اور ہندوستان،پاکستان،بنگلہ دیش،برما اور نیپال میں -ان شاء اللہ -کل :یعنی 12/مارچ 2024ء سے ہوگا۔
  بلاشک و ریب ہم مسلمان سعادت مند ہیں کہ خداوند عالم نے ہمیں، ایک دفع پھر رمضان المبارک کے بابرکت لمحات سے مستفید ہونے کا سنہرا موقع عنایت فرمایاہے، اس پر ہم خُدائے واحد کابےحد ممنون ہیں اور دعا گو ہیں کہ رب ذوالجلال ہمیں یہ موقع بار بار نصیب فرمائے۔
  اس مبارک مہینے کے پیش نظر علمائے نیپال نے مسلمانانِ عالم کے نام انمول اور قیمتی پیغامات جاری فرمائے ہیں،جو درج ذیل ہیں:
   جمعیت علمائے روتہٹ نیپال کے ترجمان اور مسلم سنگھ نیپال کے رکن انوارالحق قاسمی نے کہا کہ : رمضان المبارک کے روزوں کا رکھنا،ہر اس شخص پر فرض ہے :جو مسلمان ،عاقل ،بالغ،مقیم اور صحت مند ہو؛اس لیے ان شرائط کے حامل شخص، جب رمضان المبارک کا مہینہ پائے،تو اسے چاہیے کہ اس کے روزوں اور رات میں تراویح کی نماز کا خاص اہتمام کرے۔
  ترجمان جمعیت نے مزید کہاکہ : رمضان کے روزوں کی ایک خاص، خاصیت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان واحتساب کے ساتھ اس کے روزوں کا اہتمام کرے گا،تو رمضان کے روزے اس کے گناہوں کو جڑ سے مٹادیں گے۔ ایک روزہ دار کے لیے اس سے بڑی بشارت اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی ہے؛اس لیے روزوں کا خوب اہتمام کیا جائے ۔
  جمعیت علمائے نیپال کے جنرل سکریٹری مولانا قاری محمد حنیف عالم قاسمی مدنی نے کہاکہ :اس مبارک مہینے میں ہر روزہ دار کثرت سے نیک اعمال کرنے کے ساتھ،قرآن مقدس کی تلاوت  خوب شوق سے کرے؛کیوں کہ اس روئے زمین پر سب سے بابرکت کتاب ‘قرآن کریم’ہے اور قرآن کا رمضان سے ایک عظیم رشتہ ہے،وہ رشتہ یہ ہے کہ اس کا نزول بھی اسی ماہ مبارک  میں ہوا ہے۔
   جنرل سکریٹری نے مزید کہاکہ:ایک روزہ دار اور تراویح کی نماز پڑھنے والے کے لیے، ایک بڑی بشارت  یہ ہے کہ :قیامت کے دن رمضان کے ‘روزے اور قرآن’ اللہ تعالیٰ کے حضور ان کے حق میں سفارش کریں گے ،اور ان سفارش اللہ تعالیٰ قبول بھی فرمائیں گے۔
  جمعیت علمائے نیپال کے مرکزی رکن مولانا محمد عزرائیل مظاہری نے کہا کہ : رمضان کے روزوں کی اہمیت کے لیے بس اِتنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نسبت اپنی طرف فرمایا ہےکہ: روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
  جمعیت علمائے روتہٹ نیپال کے نائب صدر مولانا محمد جواد عالم مظاہری نے کہا کہ : رمضان کے روزوں کی اہمیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس ماہ مبارک میں اگر کوئی شخص  قصداً ایک روزہ بھی چھوڑتاہے،تو اس کی تلافی کے لیے پوری زندگی، روزے کیوں نہ رکھ لے،پھر بھی ناکافی ہے۔اللہ ہم سبھوں کو ایک ایک روزہ کی قدر کرنے والا بنائے ۔
   بیرگنج جامع مسجد ابوبکر صدیق کے امام و خطیب مولانا محمد ابواللیث قاسمی نے کہا کہ : رمضان المبارک غم خواری اور ایثار کا مہینہ ہے؛اس لیے اس مہینے میں ہر روزہ دار کو چاہیے کہ غریبوں کا خاص خیال رکھے!
مولانا نے مزید کہاکہ: ‘صدقات وخیرات’ سے روزوں اور جملہ عبادات میں واقع خامیوں کی تلافی ہوتی ہے اور انھیں کار گر بنانے یہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
  دیوبند کی قدیم جامع مسجد کے سابق امام اور جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے رکن مولانا قاری اسرار الحق قاسمی نے کہا کہ :روزہ داروں کو چاہیے کہ اس بابرکت مہینے کے اخیر عشرہ کا اعتکاف کرے ؛ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:جس نے رمضان میں (آخری) دس دن کا اعتکاف کیا، اس کو دو حج اور دوعمرے کا ثواب ملے گا۔
  نیپال اسلامک اکیڈمی کے معاون مولانا محمد نثار احمد قاسمی نے کہا کہ : اس مہینے میں ایک مبارک رات’شب قدر ‘ہے، جس میں عبادات کا خاص اہتمام کیا جائے ،کیوں کہ اس رات میں عبادت کرنے کی بہت فضیلت اور بڑی تاکید آئی ہے۔ قرآن مجید میں اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اس حساب سے اس رات کی عبادت 83 سال اور 4 مہینے بنتی ہے۔
   مفسر قرآن مولانا انعام الحق قاسمی نے کہاکہ : رمضان المبارک کی بڑی فضیلت ہے، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ اگر لوگوں کو رمضان المبارک کی ساری فضیلتوں اور برکتوں کا پتہ چل جائے تووہ تمنائیں کریں گے کہ کاش! سارا سال رمضان ہوجائے۔ اس لیے رمضان المبارک کے مبارک لمحات ہمیں بس اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کرنے اور منہیات سے کلی اجتناب کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے