بیدر۔ 14؍مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری): بی جے پی کے ضلع ترجمان جناب سدانند جوشی کے مطابق بھگونت کھوبا کوپارٹی ٹکٹ دئے جانے کابی جے پی ضلع بیدر نے خیرمقدم کیاہے۔ان ہی کے بموجب  بی جے پی ضلع صدر سومناتھ پاٹل ہڈگی نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہاہے کہ بھگونت کھوبا 2014اور 2019میں اپنی جیت درج کراتے ہوئے مرکزی وزیر کے عہدے تک پہنچے ہیں۔اب وہ تیسری بار بیدر سے انتخاب لڑیں گے اور انھیں ہیٹ ٹرک کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ خیردعووں سے ہٹ کر سیاست میں مواقع اور غیرمتوقع موڑ بہت ہوتے ہیں۔ جو نہیں ہوناہے وہی سب کچھ سیاست میں ہوتاہے۔جو گھوڑا جیت سکتاہے وہ غیرمتوقع ہار کا منہ بھی دیکھتاہے۔ خیر اب بی جے پی امیدوار کے مقابلے میں کانگریس پارٹی کو اپناامیدوار میدان میں اتارناہے۔ صبح ہی صبح یہ افواہ زوروں پر رہی کہ کانگریس نے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کردی ہے جس میں بیدر سے ایشورکھنڈرے کانام فائنل ہوچکاہے۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ ذرائع کی مانیں تو ایشور کھنڈرے اپنے 26سالہ غیرشادی شدہ فرزند ساگر کھنڈرے بی اے ایل ایل بی ،جنرل سکریڑی NSUI،کو بیدر پارلیمانی حلقہ سے امیدوار بناناچاہتے ہیں۔ اور ایک کہنہ مشق سیاسی کھلاڑی سے اپنے نوآموز فرزند کامقابلہ کرواتے ہوئے جیت کے ہاراپنے فرزند کے گلے میں دیکھنے کی آرزو ہے۔ سینئرسیاست دانوں میں سے چند کی رائے ان کی اہلیہ ڈاکٹر گیتا کھنڈرے کو انتخاب لڑانے سے متعلق ہے۔ فیصلہ بہرحال ایشور کھنڈرے کو کرنا ہے لیکن ایک اور کھلاڑی راج شیکھرپاٹل سابق وزیر بھی ہیں۔ دوسری طرف بیدر پارلیمانی نشست سے تین مسلمانوں نے کانگریس ٹکٹ پر دعویداری کی تھی۔ ان ہی میں سے ٹکٹ کے ایک خواہشمند نے آج بیدر کے پتریکا بھون میں ٹھیک 12؍بجے پریس کانفرنس بلائی تھی۔ ایک بجے تک بھی وہ پریس کانفرنس ہونہ سکی۔ شاید کوئی سیاسی اٹھاپٹخ یاسیاسی داؤ پیچ کے سبب پریس کانفرنس ایک گھنٹہ تاخیر سے بھی نہیں ہوسکی تھی۔دیکھناہے کہ کانگریس کے ٹکٹ پر بیدر سے کون انتخاب لڑتاہے۔ واضح رہے کہ ریاستی سطح پر بی جے پی اور جنتادل (یس) کااشتراک ہے ۔ اس لئے جنتادل (یس) سے کوئی امیدوار بیدر پارلیمانی نشست سے کھڑا نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے