جاوید سرور کشی نگر
نفرت کی گرد دل پہ اگرچہ جمی رہے
پھر رہ گزار عشق میں کیا دلکشی رہے
ان کی محبتوں کا چمن خوش گوار ہو
۔۔دل کی زمیں پہ پیار کی جب تک نمی رہے
جاری رہے سڑک پہ کسانوں کا احتجاج
سینے میں ان کے جرآت و ہمت بسی رہے
گلشن کے لوٹنے میں ہیں گلشن کے لوگ ہی
اب وہ چمن رہا نہ چمن میں خوشی رہے
جب باغباں نے کر دیا برباد گلستاں
سرور رخ گلاب پہ کیوں تازگی رہے
