ڈاکٹرعبدالکریم سلفی علیگ
ممبئی
واپی ، پونہ اور کسی حد تک ممبئی کی بعض مساجد مین تراویح پڑھنے کا موقع ملا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اہل حدیث کی مساجد میں بھی قرآن ختم کرنے کے چکر میں اور جلدی تراویح سے فراغت کے لئے نام کی تراویح پڑھی جانا شروع ہو چکی ہیں۔
ایسی اسپیڈ میں تلاوت کلام ربانی کہ مت پوچھیں۔
ایسا پڑھتے ہیں حفاظ کہ بعض مقتدیوں کے سینے پھولنے لگتے ہیں۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھو لیکن آج ہم مسلمانوں نے نماز جیسی عبادت میں بھی جہاں اطمینان و سکون اور خشوع خضوع کی انتہا ہونی چاہئے وہاں قرآن کی بے حرمتی سے ہم باز نہیں آئے۔
پہلے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ وبا اہل تقلید کے یہاں زیادہ پھیلی ہوئی ہے لیکن اب یہ کہا جانا کسی حد تک درست لگنے لگا ہے کہ اہل توحید کی مساجد بھی اس وبا کسی حد تک شکار ہو رہی ہیں۔
منتظمین مساجد علماء دعاۃ اور اہل ثروت حضرات سے گذارش ہے کہ اس بیماری کے روک تھام میں آگے آئیں اور جہاں بھی اس انداز سے کلام ربانی سے کھلواڑ ہو اسے روکنے کی کوشش کریں تو بہتر نتیجے کی امید کی جا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم کو قرآن کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور نماز میں خشوع خضوع نصیب فرمائے، آمین۔
