بیدر۔ 9؍اپریل(محمدیوسف رحیم بیدری): عید کے موقع پر ایساکیاکیاجائے کہ دل کو خوشی ہوسکے ؟ یہ سوال نوجوانوں کے دل میں ہوتاہے۔ وہ دراصل عیدپرخوش ہونا اور خوش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ عید خوشی ہی کانام ہے لیکن خوشی کاحقیقی مطلب کیاہے ؟ اس سے ہم ذراناواقف ہی ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ خوشی کامطلب سمجھ سکیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کی حمدوثنااور اس کی بڑائی بیان کرنا عید کے موقع پر ضروری ہے۔

عید الفطر کے موقع پر ناشتہ میں میٹھی چیز کھانے کے بعد تکبیر کہتے ہوئے عیدگاہ ایک راستے سے جانا او ردوسرے راستے سے واپس ہونا سنت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عیدگاہ میں لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرنا ، کوئی دل آزاری کی بات بھی کہہ دے تو اس کو معاف کرنا ہوگا۔تیسری بات یہ ہے کہ غریب اور مستحق ولاچار افراد کی مالی مدد کرنا انہیں کھانا کھلانا چاہیے۔ چوتھی بات یہ کہ سب سے پہلے والدین سے ملنا، عیدکی مبارک باددینا چاہیے ۔ پھر رشتہ داروں سے بھی ان کے گھر پہنچ کر ملاقات کریں ۔ عیدکی مبارک باد دیں۔ پانچویں بات یہ کہ دوست احباب اور ان کے گھروالوںاور بچوں کی بھی خیرخیریت دریافت کریں۔ چھٹی بات یہ کہ اپنے پڑوسیوں اور غیرمسلم حضرات سے بھی ہمارارویہ نیکی کا ہو۔ ساتویں بات یہ کہ اپنی نمازوں کو نہ بھولیں ۔ عید کے دن کی ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر گویا سبھی نمازیں اہتمام سے ادا کی جائیں۔ اور اللہ کاذکرکثرت سے ہو۔ اپنے روزے ، قرآن کی تلاوت ، تروایح ، اعتکاف کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ اس کے لئے دعا کریں۔ اپنی شناخت اور اپنے مسلم بھائیوں کی مسلم شناخت پر کوئی دھبہ نہ آئے۔ آج کے دور میں مسلمان ہونا بہت بڑی بات ہے۔ اور ایک نڈر مسلمان کا ہونادراصل ایمان کے درجۂ بلند کو پالینا ہے۔ اپنے رشتہ دار ، دوست احباب اورپڑوسیوں کے ساتھ مل جل کر رہنا عین دین کاتقاضہ ہے۔

بہرحال نوجوانوں کی خدمت میں عیدالفطر کی پرخلوص مبارک بادپیش کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ تمام کی جوانیوں کو اپنے دین کے لئے قبول فرمائے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے