جاوید سرور کشی نگری 

جلوہ فشاں خلوص کا جلوہ تو کیجئے

الفت بھری نگاہ سے دیکھا تو کیجئے

سنیٔے ذرا مریض محبت کی یہ صدا

مجروح دل کو دیکھئے اچھا تو کیجئے

پھر دیکھتے ہیں کیسے پڑے گی نگاہ بد

پہلے حسین چہرے پہ پردہ تو کیجئے

پہنچے گا نام آپ کا شہرت کے بام پر

اپنے ہنر کا شہر میں چرچا تو کیجئے

محسوس ہوں گے آپ کو دنیا کے رنج وغم

سرور رخ_حیات فسردہ تو کیجئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے