بیدر۔ 15؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): فیس بک پر ایک ویڈیووائرل ہورہی ہے جس میں ریاست کرناٹک کے وزیر بلدی نظم ونسق اور وزیر حج جناب رحیم خان کو حج تربیتی کیمپ کے فوری بعد جامع مسجد بیدرکے صحن میں برقعہ پوش خواتین کا ایک گروہ اپنے ہاتھوں سے شال اڑھارہا ہے اور پھول پہنارہاہے۔ اس تہنیت کے دوران بازو میں ضلع انچارج وزیر اور کے پی سی سی کارگذار صدر ایشور کھنڈرے بھی سفید ٹوپی پہنے شال اوڑھے اور گلے میں پھول ڈالے ہوئے نظر آرہے ہیں، مردحضرات بھی کافی تعداد میں موجودہیں۔جب کہ بیدر بلدیہ کے چیرمین محمدغوث بھی جھک کر ان ہی خواتین سے پھولوں کاہار پہن لیتے ہیں۔اور ویڈیو ختم ہوجاتی ہے۔ یہ وائرل ویڈیوپر دینی حلقوں میں بحث ہورہی ہے کہ وزیر حج رحیم خان کاخواتین سے شال اوڑھنا اور پھول پہننا کہاں تک جائز ہے؟ کیایہ خواتین وزیر حج رحیم خان کی بہنیں ہیں؟ یا عازمین حج یاپھرکوئی اور؟ علمائے کرام کی اس تعلق سے خاموشی معنی خیز ہے۔ اگر برقعہ پوش مسلم خواتین پھول پہنانے اور شال اڑھانے لگیں گی تو پھر دیگر بدعات کاآغاز ہوسکتاہے۔
لہٰذا شہر ِ بیدر کے معززین (اور ان کے نزدیک بیٹھنے والے علمائے کرام) کوچاہیے کہ وزیر حج سے اس کی وضاحت طلب کریں کہ اتوا رکو بیدر کی جامع مسجد میں یہ کون سا پروگرام تھا ۔اگر خو دوزیر حج بھی صحافیوں کو بتاکر وضاحت کرتے ہیں تو اس سے بیدرکے مسلم معاشرے میں پیدا شدہ بے چینی دور ہوگی ۔ وہ خدا ئے تعالیٰ کے ہاں ماخوذ نہیں ہوں گے ۔ ورنہ کھلے عام اس طرح کے کام کی اجازت ہمارے خیال میں اسلام ہرگز نہیں دیتا۔
