بیدر۔ 18؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): بیدر میں کل 17؍اپریل چہارشنبہ کی شام سے شب کے پہلے پہر تک رام نومی تقریب کاجلوس شاندار پیمانے پرمگرپرامن طریقے سے نکالا گیا۔ جس کے لئے پولیس کا کافی انتظام کیا گیا تھا۔ شہر کی مختلف مساجد ، اوردرگاہوں کے سامنے مرد اور خواتین پولیس کانسٹیبل موجودتھے جبکہ ڈی جے کے ساتھ رام نومی کا جلوس نکلا جو نئی کمان ، تعلیم صدیق شاہ ، کلثوم گلی ، چوبارہ ، گاوان چوک اور مین روڈ ، شاہ گنج سے ہوتاہوا اختتام کوپہنچا۔ اس جلوس کے تقریباً شرکاء (خواتین شامل نہیں تھیں) نے بھگوا رومال گلے میں ڈال رکھاتھا۔ ڈی جے کے ذریعہ مختلف قسم کے گانے اور بھجن بجائے جارہے تھے۔ جگہ جگہ بھگوا رومال گلے میں ڈالے ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگاتے نوجوان نظر آئے۔ چند نوجوانوں کے ہاتھوں میں جھنڈے بھی تھے جن پر بھگوان رام اورہنومان کی تصاویر اتری ہوئی تھیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کے مقابلے اِمسال کچھ زیادہ ہی بڑا جلوس تھا۔

کلثوم گلی کے پاس راج بیدری ورکس شاپ کے روبرو جلوس کے شرکاء میں پرساد بانٹنے کے لئے اسٹال لگایا گیا تھا، وہاں پر بھگوان رام کی تصویر کے ساتھ ساتھ ہورڈنگ کے نیچے حصہ میں وزیراعظم مودی کی تصویر بھی شامل تھی۔ جلوس میں خواتین کے نہ ہونے پر جلوس دیکھنے والوں اور راہگیروں کو حیرت تھی۔ بیدر کے ایک فیس بک اکاونٹ پر جلوس کی ویڈیو کو اپلوڈ کیا گیا تھا۔ جس کے نیچے ایک مسلمان کا کمنٹ تھا کہ یہاں تم جلوس نکالتے رہنا وہاں 50 مسلمان UPSC میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اسی طرح ایک اور مسلمان نے جلوس کے نیچے EVIL کہہ کر کمنٹ کیاہے۔ ایک نے آتنک وادی لکھا ہے۔

یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ کسی غیرمسلم فرد یا میڈیا نے جلوس کے ویڈیو کو اپلوڈ نہیں کیا، ہم نے تلاشا ضرورمگر ملا نہیں ۔ مسلم نوجوان کا اس طرح کے جلوس کو لائیوکرنا یا اپلوڈ کرنا صرف ٹی آرپی بڑھانے کے علاوہ اور کیاہوسکتاہے؟ معاشرتی حالات پر قابوپانے کے خواہشمند دینی، فلاحی، تعلیمی شخصیات کو ان مسلم نوجوانوں کی کونسلنگ کی طرف بھی توجہ دیناہوگا۔ جلوس دیکھنے کے لئے کافی تعداد میں بچے بھی نظر آرہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے