بیدر۔ یکم مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): ووٹرس کو چاہیے کہ وہ سیاست دانوں کی طرح ووٹ کریں۔ وہ جس طرح پارٹی بدلتے ہیں، وہ جس طرح دوسری پارٹی میں رہتے ہوئے بھی پہلی اور تیسری ، چوتھی پارٹی سے ناطہ رکھتے ہوئے اپنے مفادات کاتحفظ کرتے ہیں۔ ایساہی کام ووٹر کرے۔ یہ بات سیاست کے ایک منجھے ہوئے استاد نے کہی۔انھوں نے مزیدکہاکہ جب تک مسلمان تمام پارٹیوں کے ساتھ اپناسیاسی سفر نہیں کریں گے تب تک انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ایک ہی پارٹی کی طرف بغیرکسی شرط کے ووٹ کرنا دراصل اس قوم کی ناسمجھی ہوگی۔ امیدوارسے وعدہ لیں کہ وہ مینارٹیز کے فلاں اور فلاں کام ضرور انجام دے گا۔ ورنہ پانچ سال تک پھر وہ نظر نہیں آئے گا۔اوراگر سامنے ہوگاتب بھی کوئی ترقیاتی کام انجام نہیں دے گا۔ ایک اور نوجوان نے کہاکہ کانگریس پارٹی کی بے رخی اوریہ اوورکانفی ڈنس کہ ان کے علاوہ اقلیتیں کون سی پارٹی کو ووٹ کریں گی ، آج پوری ریاست کرناٹک میں چند ایسے پیکٹ وجود میں آگئے ہیں جہاں کے مسلمان 20%تک بی جے پی کو ووٹ کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے انتخابات سے مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ انتخابات سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ساری پارٹیاں ایک ہیں اور دوسری طرف تنہا عوام کھڑی ہے جس کاکوئی پرسانِ حال نہیںہے۔وہ غریب سے غریب تر ہوتی جارہی ہے۔ کل تک میں تین چار کپڑوں میں سال گزار دیتاتھا۔ اب مجھے دوکپڑوں میں سال گزارناپڑرہاہے۔
مسلمانوں کے ایک پرجوش مولوی نے کہاکہ آج ضرورت ووٹ دینے کی ہے۔ سب مل کر ووٹ دیں۔ پوچھاگیاکہ امیدوار کیساہے؟ اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ نہیں؟ وہ بولے، اب غورواور کرنے کاوقت نہیں ہے۔ آنکھ بند کرکے ووٹ ڈالیں اور انڈیا گٹھ بندھن پر ووٹ ڈالیں۔ خیریہ تو عوام کی رائے ہے۔ بہرحال بیدرپارلیمانی حلقہ میں اس دفعہ مسلمان شاید زیادہ ووٹنگ کریںگے لیکن دھوپ کی شدت بتارہی ہے کہ ووٹنگ میں کمی واقع ہوگی۔ اور اگر آخری وقت میں لوگ جاکر پولنگ بوتھوں پرکھڑے ہوگئے تو پھر رات8-9 بجے تک بھی پولنگ جاری رہے گی ۔
