انجمن اسلامیہ بحر العلوم میں منعقد تعزیتی نشست میں علماء کرام نے ڈالی ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر تفصیلی روشنی 

نانپارہ، بہرائچ (رپورٹ محمد رضوان گوہر ندوی): مولانا ظفر کمال مظاہری نے صرف پچپن سال کی زندگی پائی لیکن کام بہت کیا، وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، پوری زندگی دین کی سربلندی کے لئے وقف کر دی تھی، جسم میں جتنی طاقت تھی سب دین کے کاموں میں لگا دینا چاہتے تھے، کوئی تکلف نہیں تھا، طبیعت میں سادگی تھی، جہاں جس نے جب چاہا بلا لیا اور مولانا بھی بڑے دور اندیش و معاملہ فہم تھے، تقاضا اور ضرورت دیکھ کر دین کا پیغام پہونچا دینا اپنا فریضہ سمجھتے تھے، ان خیالات کا اظہار مفتی حارث عبد الرحیم نے مدرسہ بحر العلوم انجمن اسلامیہ نانپارہ میں ” مولانا ظفر کمال مظاہری حیات و خدمات” کے عنوان پر منعقد ایک تعزیتی اجلاس میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ پورے علاقہ پر مولانا ظفر کمال مظاہری کی وفات سے سناٹا طاری ہے، وہ بیداری کی چلتی پھرتی تصویر تھے، جہاں جہاں غفلت اور غنودگی دیکھتے بس جگانے لگ جاتے، اللہ تعالیٰ ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔

مولانا افضل ندوی مہتمم انجمن اسلامیہ نانپارہ نے کہا کہ مولانا ظفر کمال مظاہری رحمۃ اللہ علیہ سایہ دار درخت کی طرح تھے، ہر آدمی کاموں کی پیہم تھکن کے بعد ان کے پاس پہنچ جاتا تھا اور تازہ دم ہو کر دوبارہ کام پر لگ جاتا تھا۔

ان کی تو یہ مثال ہے جیسے کوئی درخت

غیروں کو سایہ بخش دے خود دھوپ میں جلے

انھوں نے کبھی اپنی بیماری اور مجبوری کو رکاوٹ نہیں بننے دیا، مسلسل اپنے آپ کو حالات کی تیز دھوپ میں جلایا، گردش ایام کی لپٹ میں اپنے وجود کو پگھلایا اور دوسروں کو فائدہ پہونچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھا، وہ انجمن کے صدر تھے، اب انجمن ایسا عالی ظرف، متحمل مزاج، با اخلاق، متواضع اور ملنسار عالم کہاں سے ڈھونڈ کر لائے گا، ملنے کے نہیں نایاب تھے وہ.

مدرسہ بدر العلوم بابا گنج کے روح رواں مولانا سلیم قاسمی نے کہا کہ میرا ہم راز چلا گیا، ظفر کمال مظاہری واقعی بڑے کمال کے انسان تھے، فہم و فراست، دور اندیشی، معاملہ فہمی میں وہ پورے علاقے میں یکتا تھے، بے شمار مشکل اور الجھے مسائل میں وہ آزادی و اطمینان کے ساتھ گھستے چلے جاتے تھے اور جب وہاں سے نکل کر آتے تو معاملہ بھی صاف ہوجاتا، بیماری کا علاج ہو جاتا اور خود ان کے جسم و ضمیر پر کوئی ذرہ برابر داغ نہیں ملتا، لوگوں کو ان کی ذات پر بہت اعتماد اور اعتبار تھا، لوگ اپنے آپ پر شک کر سکتے تھے لیکن ان کی شخصیت کو دل سے تسلیم کرتے تھے.

جامعہ خیر العلوم کے نائب مہتمم مولانا محمد سالم قاسمی نے کہا کہ اب ہم نوجوانوں کی ذمہ داری دوگنی ہو گئی ہے، وہ اکیلے ایک جماعت کا کام کرتے تھے، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، پورا ضلع بہرائچ ان کے کام اور نہج پر رشک کرتا تھا، چھوٹے چھوٹے گاؤں میں معمولی دعوت پر بلا تکلف حاضر ہو جاتے اور ایسے دین کا پیغام پہونچاتے جیسے یہ آخری خطاب ہو، دل نکال کر رکھ دیتے تھے ، کبھی برائیوں پر جھنجھوڑ دیتے، کبھی ملت کی بے حسی پر اور نوجوانوں کی بے راہ روی کا سراپا غم بن جاتے، بلک اٹھتے، سسک سسک کر ان سے راہ راست اپنانے کی فریاد کرتے، کبھی ہمت نہ ہارنے کی اپیل کرتے، زمانے کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے پر ابھارتے، کبھی اچھے کاموں کو سراہتے اور جنت کی خوش خبری سناتے، اکابر کے بہت قدردان تھے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اس موقع پر مدرسہ مظہر العلوم کے مہتمم مولانا محمد الیاس قاسمی، مولانا محمد رضوان ندوی،مولانا محمد احمد انصار قاسمی، محمد غزالی، محمد جامی، حاجی اقبال احمد، مولانا محمد فاروق،حافظ محمد شاہد وغیرہ سمیت کثیر تعداد میں عقیدت مند و سامعین موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے