سہارنپور( احمد رضا): ان دنوں ملک میں جہاں جہاں بھاجپا اقتدار میں ہے وہاں مسلم آبادی کے لئے حالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں بيقصور ہوتے ہوئے بھی مسلم مرد ،عورتوں اور بچوں کو بربریت کا شکار بناکر انکو جیل بھیجا جا رہا ہے مسلم افراد کی ضمانتیں بھی نہیں ہو رہی ہیں جبکہ ہندو ملزمان کے ساتھ قصور ثابت ہو نے کے باوجود بھی پولیس کاروائی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اعلانیہ مسلم افراد اور مسلم لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور ان کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ باغپت میں گیارہ سالہ معصوم مسلم لڑکی کے اغوا اور اجتماعی زنا کاری کی دردناک واردات سے سبھی خوب واقف ہیں، اسی طرح درجنوں مسلم لڑکیوں کے اغواء کے معاملات میں پولیس شکایت ملنے کے بعد بھی ہندو ملزمان کے خلاف کچھ بھی کاروائی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ویست اتر پردیش کے بعد اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں مسلم مخالف فساد میں مقامی انتظامیہ اور پولیس افسران کی ایک طرفہ مسلم افراد کے خلاف کاروائی نے سبھی کو محو حیرت کر ڈالا آخر جمہوری نظام اور آئین کے مطابق چلنے والے اس ملک میں یہ ہو کیا رہا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اس الیکشن میں ہوش سے کام لیں اور نفرت اور ظلم پھیلانے والے زہریلے افراد کے خلاف ووٹ کریں ملک کے عوام کو بچائیں، ملک کے قابل احترام آئین کو بچائیں۔ یہی آج ہم سبھی کی بڑی ذمہ داری ہے!
سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ بچھلے دنوں عالم دین اور شیعہ علماء ہند کے صدر مولانا علی حسین قمی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ملک کے عوام کو ان لیڈروں سے ہوشیار رہنا ھوگا کہ جو  لیڈر عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر اہم مسائل میں الجھا کر صرف اور صرف پانچ کلو راشن تقسیم کرنے کی آڑ میں آج خود ہی کروڑ پتی بن کر ووٹروں کو سڑکوں پر لے آ تے ہیں۔ شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری اور  شیعہ علمائے ہند کے صدر مولانا علی حسین قمی اور ملک بھر میں ملی خدمات کو فروغ دینے میں پیش پیش سوشل ورکرز آرگنائزیشن کے کنوینر محمد آفاق  نے بھی مولانا قمی کی موجودگی میں کل لکھنؤ میں مشتر کہ پریس ریلیز جاری کر تے ہوئے کہا کہ آج ملک کا 80 فیصد عوام بہت برے حالات سے دو چا ر ہے مہنگائی ،نفرت اور بے روزگار ی کے بد ترین دور نے عوام کو روٹی دال کے لئے رلا کر رکھ دیا ہے صرف دولت مند ہی دولت جمع کرنے میں معروف ہے عام آدمی پر دوہری مار پڑ رہی ہے! دونوں ملی رہبر وں نے کہا کہ گھٹیا اور نچلی سطح کی بیان بازی کرنے والے قائدین کو  آپ ہر گز ووٹ نہ دیں دونوں ملی رہبر وں نے بیباک انداز میں ملک اور ملت اسلامیہ کے لئے ہمدردی سے متاثر بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں سے ملک کے عوام کو طرح طرح کے نعرے دے کر اکسایا جا رہا ہے جو لوگ مہنگائی بڑھانے کا نعرہ لگاتے تھے آج وہی لوگ مہنگائی میں دو گنا اضافہ کر کے عوام کا استحصال اور قتل عام کر رہے ہیں۔
ملی رہبر مولانا علی حسین نے ملک کے اتحاد، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے والے لیڈروں کے خلاف عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لیڈروں کو منتخب کریں جو ملک میں بھائی چارہ برقرار رکھ سکیں ! مندرجہ بالا قائدین کے بیانات کی حوالہ دیتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ ملک میں چناؤ کمیشن کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں مگر سبھی لوگ تماشائی بنے ہوئے ہیں یہ حالات اور کارکردگی ملک کے دستور اور جمہوری نظام کے لئے بے حد خطرناک ہے ایم علی نے کہا کہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عوام انکو ووٹ کریں کہ جو ملک کی ترقی کے لئے ٹھوس کام کریں جو غریبوں کی مدد کرتے ہیں ہمارے ملک میں جمہوریت کا وقت صرف صحت مند اور صاف ستھرے لیڈروں کو منتخب کرکے آئے گا جو کر پٹ نہ ہوں اور جو غربت، مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پاسکیں۔
سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ 2024 کا یہ الیکشن آخری امتحان ثابت ہوسکتا ہے ہماری جمہوریت کیلئے ملک کے عوام کو اس بار بہت سوچ سمجھ کر اپنا لیڈر منتخب کر نا ہے جو تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور  نفرت اور اشتعال انگیز بیان بازی کرنے والے لیڈروں سے ہوشیار ہو کر ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ  دینے والا ہو آج ملک کو ایسے مخلص قائد کی سخت ضرورت ہے اگر ایسا نہ ہوا تو ان انتخابات میں ہم اپنے ملک کی یکجہتی، سالمیت اور آئین کو بہت بڑے خطرہ میں ڈال دیں گے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے