علم ہی اسلامی تحریک کی روح ہے: حبیب اللہ قاسمی
سہارنپور( احمد رضا): آج یہاں معیاری دینی درسگاہ *جامعہ رحمانیہ للبنات* نانکہ گندیوڑہ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے اس خاص موقعے پربخاری شریف کا افتتاح بھی عمل میں آیا آج کے روحانی پروگرام کی صدارت جامعہ کے میر کارواں حضرت الحاج فضل الرحمن رحیمی نے فرمائی، قاری مطیع الرحمان صاحب کی تلاوت سے بزم کا روحانی اغاز ہوا۔
جامعہ کی طالبات نے افتتاحی حدیث شریف پڑھی جس پر جامعہ کاشف العلوم چھٹملپور کے شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا حبیب اللہ قاسمی نے علمی گُفتگوں فرمائی۔ تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فرمایا ایک مرد پڑھتا ہے تو ایک فرد پڑھتا ہے ایک خاتون پڑھتی ہے تو ایک خانوادہ پڑھتا ہے ایک اسلامی تحریک جنم لیتی ہے آپ نے کتاب اور صاحب کتاب کے حالات زندگی پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ امام بخاری کا پورا نام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَرْدِزبَہ جعفی بخاری ہے آپ مشہور محدث، رجال حدیث، جرح و تعدیل اور علل کے امام اور بڑے حافظ حدیث اور فقیہ تھے 13 شوال سنہ¹⁹⁴ ہجری مطابق ²⁰ جولائی سنہ⁸¹⁰ عیسوی شبِ جمعہ کو بخارا میں پیدا ہوئے، آپ نے علمی گھرانہ میں پرورش پائی جہاں ان کے والد خود حدیث کے بڑے عالم تھے، آپ کے والد آپکے بچپن میں ہی وفات پاگئے تھے اور امام بخاری نے یتیمی کی حالت میں ماں کی کفالت و تربیت میں پرورش پائی، بچپن ہی سے طلب علم میں مشغول ہوئے، چنانچہ بہت کم عمر میں قرآن مجید اور اس زمانہ کی امہات الکتب کو حفظ کر لیا، یہاں تک کہ جب عمر دس سال ہوئی تو حدیث حفظ کرنا شروع کیا، شیوخ اور علما کے پاس آنے جانے لگے، درس حدیث کے حلقوں میں شریک ہونے لگے، اور سولہ برس کی عمر میں عبد اللہ بن مبارک اور وکیع بن جراح کی کتابوں کو حفظ کر لیا۔طلب حدیث اور شیوخ سے ملاقات کی غرض سے اسلامی دنیا کے اکثر ملکوں اور شہروں کا سفر کیا، وہاں کے تقریباً ایک ہزار علما و شیوخ سے استفادہ کیا اور تقریباً چھ لاکھ احادیث کو جمع کیا۔
امام بخاری نے خوب شہرت و مقبولیت حاصل کی، ان کے ہم عصروں حتی کہ ان کے شیوخ تک نے ان کا اعتراف کیا، یہاں تک کہ انھیں امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے یاد کیا گیا امام مسلم، ابن خزیمہ، امام ترمذی اور دوسرے ائمہ محدثین نے آپ کے سامنے زانوی تلمذ طے کیا صحیح بخاری کا اصل نام الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، اس کو امام بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو امام بُخاری نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے۔ جامعہ کے روح رواں و ناظم اعلیٰ *حضرت مولانا مفتی عطاءالرحمان جمیل قاسمی صدر انجمن حمایت اسلام نے طالبات کو نصیحت فرمائی.
مہمان خصوصی حضرت مولانا حبیب اللہ قاسمی کا استقبال کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا نیز جامعہ رحمانیہ کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا آج الحمدللہ طالبات بخاری شریف پڑھتی ہیں عالمہ بنتی ہیں یہ محض فضل باری تعالیٰ اور جامعہ کے صدر ولئ کامل عارف باللہ حضرت الحاج حافظ جمیل احمد نانکوی کے اخلاص کی برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم فرمائے۔ مفتی صاحب نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تعلیم ترقی کا زینہ ہے آج قوم کو چاہیے کہ وہ اونچے مکانات بڑی بڑی شادیاں نہ کر کے پیسہ اپنے بچّوں کی تعلیم پر خرچ کریں ایک بڑی شادی کا خرچ جسکا دنیا و آخرت میں نقصان کے علاوہ کچھ نہیں آپکے بیٹے یا بیٹی کو بی اے ایم ایس بی یو ایم ایس بنا سکتا ہے.
تقریب کے اخیر میں حضرت شیخ الحدیث صاحب کی دعا پر محفل کا اختتام ہوا۔اس موقع پر قاری مطیع الرحمان قاسمی مولانا مصطفی صاحب مظاہری مفتی محمد عثمان قاسمی قاری زبیر عالم مولانا محمد طاہر صاحب قاری برہان قاری ندیم قاری اعظم رحمانی قاری عبد الماجد قاری حسین قاری نثار قاری ذیشان قاری چاند قاری قاری راشد مؤمن اور بہت سے احباب موجود رہیں!
