کرناٹک کی اردو تنظیمیں اور ادارے متحد ہوں ،
مذہبی جماعتیں اردو زبان اور تدریس کو بچانے آگے آئیں
بیدر۔ 31؍مئی (محمدیوسف رحیم بیدری ) ریاست کرناٹک کی سدرامیا اور کانگریس حکومت نے اس سال سے مختلف اردو(اور کنڑا) اسکولوں میںایل کے جی اور یوکے جی شروع کرتے ہوئے ہزارہاانگریزی اسکولوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔ جو آگے چل کر دوسرے سرکاری اردو اورکنڑا اسکولوںکی بنیاد ہلا کر رکھ دے گی۔ جب سرکاری اردو اسکول ہی نہ ہوں گے تو اردو زبان کی تدریس کاسرکاری سطح پر خاتمہ ہوجائے گااور اردو زبان کے دشمن چین کی بانسری بجائیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اردو شعراء (اور تنظیموں )پر الزام ہے کہ وہ صرف مشاعروں تک محدود ہوکر ذہنی عیاشی میں لگے ہوئے ہیں اور اردو زبان کے لئے کچھ کام نہیں کررہے ہیں۔ اس الزام کی سچائی سے قطع نظر اردو تنظیموں ( انجمن ترقی اردو ہند کرناٹک، ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کرناٹک ، محفل نساء ، یارانِ ادب ، بزم ِ غزالاں ، بزمِ غالب ، اردو منچ اور مقامی سطح کی دیگر تنظیمیں)کو چاہیے کہ وہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں۔ میمورنڈم پیش کریں ۔ کچھ بااثر افراد کا وفد بنگلور پہنچے اور وزیر تعلیم کے علاوہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ سے ملاقات کرکے انگریزی اسکولوں کے کھولنے کے فیصلے کو واپس لینے کو کہے۔ اور ایک نکتہ اس میں یہ شامل کریں کہ حکومت کلیان کرناٹک اور ممبئی کرناٹک علاقوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کادرجہ عطاکرے۔ اسی کے ساتھ ساتھ جس طرح مولانا آزاد ماڈل انگریزی ہائی اسکول اورمرارجی دیسائی رہائشی اسکول کھولے گئے ہیں، اسی طرزپر اردو ہائی اسکول اور اردو میڈیم رہائشی اسکول ریاست کرناٹک کھولے ۔ اب عوام کی مرضی کے وہ کنڑامیڈیم ، انگریزی میڈیم یا پھر اردو میڈیم سے اپنے بچوں کوپڑھائیں۔ حکومت کی زبانوں سے دشمنی خود حکومت کے لئے مسائل پید اکرسکتی ہے۔ اور یہ سارے کام مل جل کر متحدہ طورپر انجام دئے جائیں۔ سرکاری اردو اسکولوں کے ایس ڈی ایم سی صدور بھی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجا ج کریں ، میمورنڈم پیش کریں۔
ٹیچرس کی تنظیمیں کرناٹکا راجیہ اردو ٹیچرس اسوسی ایشن (کراٹا) ، آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن (آئیٹا) اور لسانیات پر مبنی دیگر تنظیموں کو بھی فوری طورپر اردو تدریس کو بچانے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اساتذہ یہ کہہ کر نہیں بچ سکتے کہ ہم حکومت کے ملازم ہیں اور یہ ہمارے دائرہ کار سے باہرہے۔ جب سرکاری اردو اسکول ہی نہیں بچیں گے تو کس حکومت کی ملازمت کریں گے ۔ دوسری بات یہ کہ یہ جمہوری ملک ہے اوراس جمہوری ملک میں حکومت خود عوام کی ملازم (خدمت گذار)ہوتی ہے ۔ لہٰذا اساتذہ کایہ کہناکہ ہم حکومت کے ملازم ہیں،دراصل جمہوری نظام کے انکار کے مترادف ہے۔اور خود کو
کسی بھی قسم کی مصیبت میں نہ ڈالتے ہوئے اردو زبان سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے۔
اسی طرح اردو صحافیوں کی تنظیمیں (اگر کارکرد ہیں تو) وہ بھی اس معاملے کو لے کر اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی سی کوشش کریں ۔ارد وصحافی بھی انفرادی طورپر کوشش کریں۔ آخر میں مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام سے اپیل ہے کہ وہ اردو کو بچانے کے لئے آگے آئیں۔ بھلے ہی اردو زبان ہندوستانی زبان ہوگی اور مسلمانوں کی زبان نہیں ہے لیکن جتنا کچھ دینی سرمایہ اردو میں ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ زبان اس لائق ہے کہ مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام کی نظر کرم اس زبان پر ہو۔اور کرناٹک میں اردو زبان کی بقا کاانحصار علمائے کرام کا اردو سے تعلق پر ہے۔ ہم پرامید ہیں کہ سرکاری اردواسکول بچالئے جائیں گے ۔
