پُر ہجوم پریس کانفرنس میں بسواراج دیشمکھ، ششیل جی نموشی ،لکشمن دستی، آر کے ہٹگی ، ڈاکٹر ماجد داغی اور دیگر کا اعلان

کلبرگی 31/ مئی.(ڈاكٹر ماجد داغی): کلیان کرناٹک ہورٹا سمیتی کے زیر اہتمام بتاریخ یکم جون بروز ہفتہ سردار ولبھائی پٹیل چوک گلبرگہ میں دفعہ 371 (جے) کے خلاف بنگلور میں منعقد کئے جا رہے احتجاج کے خلاف ایک علامتی وارننگ جاری کرتے ہوئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اس بات کا اعلان مسٹر لکشمن دستی صدر کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے پتریکا بھون گلبرگہ میں ایک پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا. انھوں نے اس خصوص میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ فضل علی کمیشن کی سفارشات پر 1956 میں لسانی بنیادوں پر ملک کے صوبوں کی تقسیم و تشکیل کے نتیجے میں میسور ریاست کا قیام عمل میں آیا اور علاقہ حیدرآباد کرناٹک کے عوام نے اُس وقت کنڑا زبان کی تہذیب و تمدن کی بقائے باہم، بھائی چارہ اور یکجہتی کے جذبے کے ساتھ متوازن ترقی کی امید پر ایک وسیع کرناٹک میں بہ خوشی شامل ہوگئے تھے۔ تاہم کئی دہائیوں کے بعد بھی ہمارے علاقے میں ترقی کی کوئی کرن نظر نہیں آئی۔ 1980 سے 1987 کی جدوجہد کے نتیجے میں حکومت نے آخر کار 1990 میں ایچ کے ڈی بی کا قیام عمل میں لایا۔ تاہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور یہ بے فیض ثابت ہوئی ، اس لیے 2002 کی ننجنڈپّا کمیشن کی رپورٹ کے مطابق خصوصی ترقی کے لیے اقدامات کیے گئے اور اس سے بھی کوئی قابلِ قدر ترقی نہیں ہوئی، تب 2013 میں سخت جدوجہد کے بعد علاقہ کلیان کرناٹک کی ہمہ جہتی ترقی اور علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 371 (جے) کی منظوری عمل میں آئی اور ملازمتوں، تعلیمی داخلوں و دیگر شعبوں میں اس علاقے کے عوام کو خصوصی مراعات حاصل ہونے شروع ہوگئے ہیں اور اس کے بھرپور نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے کلیان کرناٹک ڈیولپمنٹ بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی اور ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس دوران کچھ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ترقی کی امیدیں وابستہ ہیں۔ دریں اثنا، علاقہ کلیان کرناٹک میں آئین کی خصوصی حیثیت کے نفاذ کے بعد بنگلورو میں کچھ مفاد پرست گروہ کلیان کرناٹک کو حاصل آئینی مفادات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور ریاست کے دیگر 24 اضلاع کے عوام میں گمراہ کن پیغام پھیلا رہے ہیں جو سراسر غیر آئینی اقدام ہے جس کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں اور کلیان کرناٹک کے عوام کی جانب سے ہم گورنر اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے آئین مخالف احتجاج کی قَطْعِی اجازت نہ دیں۔

مسٹر ششیل جی نموشی صدر ایچ کے ای سوسائٹی نے کہا کہ آئین کی بنیادی روح کے مطابق ریزرویشن کا مطلب یہ ہے کہ امیدواروں کو اہلیت کے معیار کے مطابق جنرل میرٹ کوٹے میں آئینی طور پر نشست حاصل ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی امیدوار کو جنرل میرٹ کوٹے میں سیٹ نہیں مل پائی تو اس کے خصوصی کوٹے میں ملازمت یا تعلیمی ریزرویشن حاصل کرنا دستوری حق ہے. انھوں نے کہا کہ ہم ریاست کے عوام پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آئین، مساوات اور علاقائی عدم توازن و ترقی کے لئے ریزرویشن کے بنیادی اصول سے سب کو واقف کرانا بھی لازمی ہے ، تاکہ کوئی متحدہ کرناٹک کو تقسیم کرنے کی کوشش نہ کرے۔
انھوں نے استحقاق کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سرکاری ایجنسیوں جیسے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ، دھرم سنگھ کمیٹی کی رپورٹ اور ننجنڈپّا رپورٹ میں علاقہ کلیان کرناٹک کی پسماندگی کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے. مسٹر بسوراج دیش مکھ سیکریٹری شرن بسوپپااپا سوسائٹی نے کہا کہ جب ہم روزگار سے محروم ہیں، تعلیم تک رسائی دشوار ہے ، اپنی ہی ریاست میں ترقی سے محروم ہیں، اور ایسے میں ہمیں مراعات کے ذریعہ ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں تو کسی کو اعتراض ہرگز نہیں ہونی چاہیے. باوجود اس کے کوئی ہمارے حقوق کی پرواہ نہ کرنے والی آئین مخالف طاقتیں آرٹیکل 371 (جے) کی ابتدائی مرحلے میں مخالفت کر رہی ہیں اور ہمیں اپنے حصے کے حقوق کے حصول میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں تو ہمیں ان کے غیر دستوری احتجاج کے خلاف آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ پروفیسر آر کے ہٹگی نے کہا کہ ہمیں اپنی شاندار تاریخ ، علاقہ کلیان کرناٹک کی اپنی زمین، پانی، ثقافت، زبان اور سماجی ہم آہنگی بےحد عزیز ہیں ۔ اور ہماری پس ماندگی کی بنیاد پر آرٹیکل 371 (جے) سے خصوصی مراعات حاصل ہیں تو یہ ہمارا دستوری و آئینی حق ہے۔ انھوں نے 371 کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مفاد پرست گروہ جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے، ریاست کے 24 اضلاع کے لوگوں کو گمراہ کن پیغام دے رہا ہے اسے ہماری طاقت اندازہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ کلبرگی کے تعلیمی اداروں کے تحت آنے والے اسکولوں اور کالجوں، یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلباء، اسٹاف اور اداروں کی گورننگ باڈی کے رہنما اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما، کئی شعبوں کی ممتاز شخصیات، دانشور، مفکر، مصنفین، شعراء ، کنڑ حامی، عوام نواز، دلت، پسماندہ، اقلیت، زرعی مزدور، پرواسٹوڈنٹ، صنعتی، تجارتی ادارے وغیرہ۔ اس احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں.

ڈاکٹر ماجد داغی نائب صدر سمیتی و رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا) نے کلیان کرناٹک کے اضلاع کے عوام الناس سے گزارش کی ہے کہ یکم جون کی صبح 10 بجے سے ساڑھے 11 بجے تک سردار ولبھائی پٹیل تماپوری چوک پر منعقدہ احتجاج میں جو ہماری عزتِ نفس اور اس علاقہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ہونے والی اس لڑائی میں حصّہ لیں اور ان قوتوں کو خبردار کریں جو ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ اس موقع پر شانتپا سورن، بسوراج کومنور ، ڈاکٹر بی سی کلشٹی ، مسٹر منیش جاجو ، لنگراج سرگاپور، گنیان مترا سیموئل، شیو لنگپا بھنڈک، اسلم چونگے، عبدالرحیم، عبدالقادر موجود تھے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے